ڈیجیٹل دنیا کا تاریک رُخ

انسان نے جب ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا تو اس کا مقصد سہولت، ترقی اور تیز رفتار رابطہ تھا۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، آن لائن بینکنگ، ای کامرس اور مصنوعی ذہانت نے دنیا کو ایک نئی جہت دی ہے۔ مگر ہر ایجاد کی طرح ڈیجیٹل انقلاب کا بھی ایک دوسرا پہلو ہے۔ آج جرائم نے بھی ٹیکنالوجی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اب مجرم دروازے توڑ کر گھروں میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ایک فون کال، ایک جعلی پیغام، ایک لنک یا ایک کلک کے ذریعے لوگوں کی جمع پونجی، ذاتی معلومات اور شناخت تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا وہ تاریک رُخ ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں ڈیجیٹل سہولیات کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ آن لائن بینکاری، موبائل والٹس، سرکاری ڈیجیٹل خدمات اور سوشل میڈیا کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کے مختلف شہروں میں آن لائن فراڈ، فشنگ، جعلی سرمایہ کاری، سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور مالیاتی معلومات کے ناجائز استعمال جیسے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ جرائم نہ صرف شہریوں کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کرتے ہیں۔

سائبر مجرموں کی سب سے بڑی طاقت جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ عوام کی لاعلمی ہے۔ وہ نفسیاتی حربے استعمال کرتے ہیں، خوف پیدا کرتے ہیں، لالچ دیتے ہیں یا خود کو کسی بینک، سرکاری ادارے یا معروف کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرکے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جعلی آوازیں، تصاویر اور ویڈیوز تیار کرکے لوگوں کو دھوکہ دینا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے، جس کے باعث مستقبل میں سائبر جرائم کی نوعیت مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، 2016 (PECA) نافذ ہے جبکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اس نوعیت کے جرائم کی تحقیقات کی ذمہ دار ہے۔ تاہم قانون کا موجود ہونا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مؤثر نفاذ، جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی ہر روز بدل رہی ہے، اس لیے قانون اور ریاستی اداروں کو بھی اسی رفتار سے خود کو جدید بنانا ہوگا۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی نہیں۔ بینک، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں، تعلیمی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ عوام میں ڈیجیٹل شعور پیدا کریں۔ ہر شہری کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی بینک یا مالیاتی ادارہ فون یا سوشل میڈیا کے ذریعے او ٹی پی، پن کوڈ یا پاس ورڈ طلب نہیں کرتا۔ اسی طرح مشکوک لنکس، غیر مصدقہ ایپس اور غیر معمولی منافع کے دعووں سے ہمیشہ احتیاط برتنی چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، انہیں مصنوعی ذہانت اور جدید سائبر جرائم کے تناظر میں مزید مؤثر بنایا جائے، جدید ڈیجیٹل فرانزک سہولیات فراہم کی جائیں، متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو سائبر جرائم کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی عدالتی طریقۂ کار متعارف کرایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سکیورٹی اور سائبر آگاہی کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرنے کے ساتھ اس کے خطرات سے بھی آگاہ ہو۔

آئینِ پاکستان شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں اس ضمانت کا مفہوم صرف جسمانی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کی آن لائن شناخت، ذاتی معلومات اور مالی وسائل کا تحفظ بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اگر ہم نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ڈیجیٹل ترقی کے ثمرات جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن سکتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، قانون ساز ادارے، تحقیقاتی ایجنسیاں، مالیاتی ادارے، تعلیمی مراکز اور عوام مل کر ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام کے لیے کردار ادا کریں۔ ایک مضبوط قانونی نظام، مؤثر نفاذ، جدید ٹیکنالوجی اور باشعور شہری ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور ترقی یافتہ ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ریاست اپنے شہریوں کو اس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے کتنی سنجیدگی سے اقدامات کرتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے