آزادی کا دن اور ہماری ذمہ داری

اگست کا مہینہ شروع ہے۔ پورے ملک میں ہر طرف سبز اور سفید رنگ کے خوبصورت جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ گلیوں، بازاروں، دکانوں اور بڑی بڑی عمارتوں کو برقی قمقموں اور لائٹوں سے دلہن کی طرح سجایا گیا ہے۔ ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر جوش و خروش سے بھرپور ملی نغمے چل رہے ہیں اور ہر پاکستانی کا دل آج خوشی سے سرشار ہے۔ بچوں نے اپنے کپڑوں پر بیج لگائے ہوئے ہیں، چہروں پر پاکستان کا جھنڈا بنوایا ہوا ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو آزادی کی مبارکباد دے رہا ہے۔ لیکن جشنِ آزادی کا یہ مبارک دن صرف لائٹیں لگانے، پٹاخے چھوڑنے، باجے بجانے اور نعرے لگانے کے لیے نہیں ہے۔ یہ دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم کچھ دیر کے لیے خاموشی سے بیٹھیں اور سوچیں کہ ہم نے گذشتہ برسوں میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جس ملک کے لیے ہمارے بزرگوں نے اتنی بڑی قربانیاں دیں، کیا ہم اس کو ایک اچھا اور مضبوط ملک بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یا نہیں؟

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر کسی حادثے یا اتفاق کے نتیجے میں نہیں بنا تھا۔ یہ ملک ایک خاص مقصد، ایک عظیم نظریے اور کلمہِ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اور ہمارے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کا خواب تھا کہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر انسان کو انصاف ملے۔ جہاں قانون امیر اور غریب دونوں کے لیے ایک جیسا ہو، جہاں کسی طاقتور کو کسی کمزور پر ظلم کرنے کی اجازت نہ ہو، اور جہاں ہر شہری کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق عزت کے ساتھ آگے بڑھنے کے برابر مواقع ملیں۔ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔

اس نعمت کی سچی قدر ان لوگوں سے پوچھیں جو آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں دوسروں کے غلام ہیں، جن کے پاس اپنے فیصلے کرنے کا حق نہیں ہے اور جو روزانہ ظلم و ستم کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمیں اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔آزادی کے اس خوبصورت موقع پر آج ہم ایک زندہ اور بیدار قوم کی طرح اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ ماضی میں ہم سے جو غلطیاں ہوئیں، وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن عقلمند قومیں اپنی غلطیوں کو پکڑ کر بیٹھی نہیں رہتیں بلکہ ان سے سبق سیکھتی ہیں۔ ہمارے سامنے آج معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور آپس کے فکری اختلافات جیسے بڑے چیلنجز ضرور موجود ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو مشکل وقت میں گھبرانے اور ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے مل کر کام کرتی ہیں۔ اب وقت صرف بڑی بڑی باتیں کرنے کا نہیں بلکہ کچھ عملی کام کر کے دکھانے کا ہے۔

اگر ہم دیانت داری سے دیکھیں تو ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم آپس میں بہت زیادہ بٹ گئے ہیں۔ ہم صوبوں، زبانوں، فرقوں اور برادریوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہم نے پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہونا تو یاد رکھا، لیکن ایک سچا اور مخلص پاکستانی بننا بھول گئے ،ہمارے ملک کی مٹی بہت زرخیز ہے اور یہاں کے لوگوں میں اللہ نے بہت صلاحیت رکھی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہمارے نوجوان ہیں، جو ہماری کل آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔

ہمارے بچے اور نوجوان دنیا بھر میں کمپیوٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، کھیلوں اور پڑھائی کے میدانوں میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے ہیں اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، جب بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آیا، جیسے سیلاب یا زلزلہ، تو اس قوم کے عام لوگوں نے ہمیشہ اپنی جیب سے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی۔ ہماری بہادر فوج اور پولیس کے جوان دن رات سرحدوں اور شہروں کی حفاظت کر رہے ہیں اور ملک کے امن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔

اب ہمیں صرف زبانی دعوے اور جذباتی تقریریں کرنے کے بجائے عملی طور پر اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ ملک اسی وقت ترقی کرتے ہیں جب عوام اور حکومت مل کر ایک ہی سمت میں چلیں۔ ہمیں قائد اعظم کے بتائے ہوئے تین سنہری اصولوں یعنی ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہو اور کسی کا محتاج نہ رہے، تو ہمیں محنت کو اپنا شعار بنانا ہوگا، اپنے ملک میں بنی ہوئی چیزوں کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنا ہوگا اور دیانت داری سے اپنے فرائض پورے کرنے ہوں گے۔

تعلیم کو عام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ اس چودہ اگست پر یہ پکا اور سچا ارادہ کریں کہ ہم صرف یہ نہیں کہیں گے کہ”اس ملک نے ہمیں کیا دیا ہے“، بلکہ یہ سوچیں گے کہ”ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا ہے“۔ اپنے حصے کا اچھا کام کریں، چاہے وہ صفائی رکھنا ہو، ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرنا ہو یا اپنے کام کو ایمانداری سے کرنا ہو۔ اپنے حصے کا چراغ جلائیں، قانون کا احترام کریں اور ایک اچھے شہری بن کر دکھائیں۔ جب تک ہم انفرادی طور پر خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک اجتماعی طور پر ہمارے حالات بھی نہیں بدلیں گے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم اور سلامت رکھے، یہاں امن، یکجہتی اور خوشحالی لائے اور ہم سب کو اس پاک دھرتی کی سچی اور مخلصانہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، پاکستان زندہ باد!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے