خشک مچھلی سے پولٹری فیلڈ تک، نیا رجحان

ہم یہاں اتنا ہی کما لیتے ہیں کہ گھر کا چولہا دو وقت جل سکے۔ گرمیوں میں مچھلیاں خشک کرنا انتہائی دشوار کام ہے، لیکن بے روزگاری کے باعث یہی روزگار اپنایا ہوا ہے۔ ماہانہ 35 سے 50 ہزار روپے تک آمدن ہو جاتی ہے۔

یہ کہنا ہے مبارک کا، جو گزشتہ چار برس سے بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بی گریڈ مچھلیاں خشک کرنے کے کام سے وابستہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ کراچی سے مزدوری کے لیے پسنی آتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے کام نسبتاً بہتر چل رہا ہے۔ "جب سمندر میں مچھلی زیادہ ہوگی تو یہ کاروبار بھی چلے گا، ورنہ کام متاثر ہوتا ہے۔”

پسنی ہور کے قریب کھلے میدان میں بی گریڈ مچھلیوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سورج کی دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہیں کراچی بھیجا جاتا ہے، جہاں پروسیسنگ کے بعد یہ مرغیوں کی خوراک تیار کرنے میں استعمال ہوتی ہیں۔

ماضی میں، جب پسنی میں کولڈ اسٹوریج کی سہولت موجود نہیں تھی، تو 1970 کی دہائی سے سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کو کاٹ کر ان پر نمک لگایا جاتا، پھر سورج کی دھوپ میں خشک کرکے سری لنکا سمیت دیگر ممالک برآمد کیا جاتا تھا۔ اس دور میں پسنی کے متعدد خاندان اس منافع بخش کاروبار سے وابستہ تھے۔

وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ پسنی میں کولڈ اسٹوریج کمپنیاں قائم ہوئیں، برف کی دستیابی بہتر ہوئی اور مچھلیوں کی محفوظ ترسیل ممکن بن گئی۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں خشک مچھلیوں کی طلب کم ہوتی گئی، جبکہ تازہ مچھلیوں کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔ یوں روایتی خشک مچھلیوں کی صنعت بتدریج سکڑتی چلی گئی۔

کاروبار کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا بلکہ وقت اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ بڑے فشنگ لانچوں میں کولڈ اسٹوریج کی سہولت آنے سے نمک لگا کر مچھلی خشک کرنے کا قدیم رواج تقریباً ختم ہوگیا۔ دوسری جانب گھروں میں فریزر عام ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے بھی تازہ مچھلی کا استعمال بڑھا دیا۔ تاہم، جب زیادہ شکار یا برف کی کمی کے باعث بعض مچھلیاں مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتیں تو انہیں ضائع کرنے کے بجائے سورج کی دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں مرغیوں کی خوراک کی تیاری میں استعمال کیا جا سکے۔

مبارک کے مطابق اس کاروبار سے پسنی میں تقریباً دو سو خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ان کے بقول ہر ہفتے ایک ٹرک خشک مچھلی کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری بھیجا جاتا ہے، جہاں پروسیسنگ کے بعد اسے پولٹری فیڈ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

وہیں مزدوری میں مصروف ایک بزرگ مقامی مزدور نے بتایا کہ انہیں ایک ہزار روپے یومیہ اجرت ملتی ہے، تاہم ہر روز کام دستیاب نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق بے روزگاری نے انہیں اس محنت طلب پیشے سے وابستہ ہونے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں مزدور صبح سے شام تک سخت دھوپ میں کام کرتے ہیں۔

پسنی سے تعلق رکھنے والے معروف لکھاری اور تجزیہ کار ملک جان کے ڈی کے مطابق وقت کی بے رحمی نے اس قدیم صنعت کی رونقیں ضرور ماند کر دی ہیں، لیکن اگر اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو یہ دوبارہ مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں یہ کاروبار درجنوں خاندانوں کے لیے ذریعۂ معاش بنا ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف مزدوروں کو روزگار مل رہا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ سوزوکی اور رکشہ مالکان بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول حکومت اور نجی شعبے کو چاہیے کہ اس صنعت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے مزید ترقی دی جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے