تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محض سالوں اور مہینوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان واقعات کا تسلسل ہے جو انسان کے انفرادی اور اجتماعی وجود کو نئی سمت دیتے ہیں۔ کچھ تاریخیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ عالمی سیاست، سماج اور انسانی ذہن پر اپنے انمٹ نقوش چھپو دیتی ہیں۔ گیارہ ستمبر کا دن بھی ایک ایسا ہی دن ہے، جو تاریخ کی ڈائری میں گہرے ملال، سنجیدہ فکر اور بے شمار موڑ کاٹنے والے واقعات کا حامل ہے۔ جب بھی یہ دن آتا ہے، تو ہمارے ذہن میں ایک طرف اپنے عظیم قائد کی خاموش رخصت کا منظر ابھرتا ہے، تو دوسری طرف اکیسویں صدی کے اس تاریخی واقعے کا خیال آتا ہے جس نے پوری دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
پاکستان کے لیے 11 ستمبر 1948ء کا دن ایک ایسا زخم ہے جو کبھی پوری طرح نہیں بھر سکتا۔ یہ وہ دن تھا جب بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اپنی حیاتِ مستعار کی آخری سانسیں لے کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ قائد کی رحلت کوئی عام واقعہ نہ تھا؛ یہ ایک نوخیز ریاست کا اپنے سب سے بڑے سہارے سے محروم ہو جانا تھا۔ زیارت کی پرسکون وادی کی ٹھنڈی ہواؤں سے لے کر کراچی کے گرم اور حبس زدہ ماحول تک، قائد اعظم کی زندگی کے آخری ایام ان کے بے مثال عزم، استقامت اور اپنے مقصد سے جنونی محبت کی داستان ہیں۔
وہ ایک ایسے طبیبِ قوم تھے جنہوں نے اپنی گرتی ہوئی صحت اور شدید جسمانی نقاہت کی کبھی پروا نہیں کی۔ پھیپھڑوں کے موذی مرض کے باوجود وہ جانتے تھے کہ کروڑوں انسانوں نے ان پر اعتماد کیا ہے اور ایک الگ وطن کا خواب ان کی قیادت کی وجہ سے شرمندہء تعبیر ہوا ہے۔ قائد کی شخصیت میں جو قانون کی پاسداری، شائستگی، سچائی اور بلا کی پختگی تھی، وہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار تھی۔ وہ خطیبانہ لفاظی یا جذباتی نعروں کے قائل نہیں تھے، بلکہ ان کی بات میں ایک ایسا وزنی اور ٹھوس استدلال ہوتا تھا جس کا احترام ان کے مخالفین بھی کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، تو قوم کے سر سے ایک ایسا سایہ اٹھ گیا جس کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔
مگر تاریخ کا سفر کبھی نہیں رکتا۔ قائد اعظم کی وفات کے ٹھیک تریپن سال بعد، 11 ستمبر 2001ء کو دنیا کی تاریخ میں ایک اور ایسا واقعہ پیش آیا جس نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے ان خوفناک حملوں نے اکیسویں صدی کے منظر نامے کو یکسر بدل دیا۔ 9/11 کا یہ واقعہ محض چند عمارتوں کا گرنا یا ہزاروں بے گناہ انسانوں کی ہلاکت تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد سے عالمی سطح پر امن، سیکیورٹی اور آزادی کے مفاہیم تبدیل ہو گئے۔
اس واقعے کے بعد کی دنیا ایک بالکل مختلف دنیا بن گئی۔ بین الاقوامی سیاست میں خوف، عدم اعتماد اور کشیدگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ کے نام پر جو دور شروع ہوا، اس کے سب سے زیادہ اثرات ہمارے اس خطے پر پڑے۔
پاکستان، جو پہلے ہی بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما تھا، اس عالمی بحران کا براہِ راست مرکز بن گیا۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں مسلم جوامع اور مغرب کے درمیان تعلقات کو بھی ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا۔
اس واقعے کے ٹھیک ایک سال بعد، 11 ستمبر 2002ء کو جب دنیا اس خوفناک سانحے کی پہلی برسی منا رہی تھی، تو کراچی کی سرزمین ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بنی۔ اسی دن القاعدة کے ایک اہم ترین رہنما رمزی بن الشیبہ کی کراچی سے گرفتاری نے یہ ثابت کر دیا کہ 9/11 کے اثرات کس طرح ہمارے اپنے گلی محلوں اور شہروں تک پھیل چکے تھے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ 11 ستمبر کا دن صرف ایک پرانا تاریخی باب نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے حال اور مستقبل کے ساتھ بھی گہرائی سے جڑ چکا ہے۔
جب ہم ان تمام واقعات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں، تو 11 ستمبر کا دن ہمارے لیے ایک ہمہ جہت فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک طرف قائد اعظم کی وہ باوقار، متوازن اور اصول پسندانہ سوچ ہے جو قانون کی حکمرانی، مساوات، اور تعلیم کے ذریعے قوم کو سنوارنے کی داعی تھی؛ اور دوسری طرف اکیسویں صدی کا وہ افراتفری اور تشدد سے بھرا منظر نامہ ہے جس نے دنیا کو عدم استحکام کی آغوش میں دھکیل دیا۔
آج کے دور میں جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے قائد کے افکار کو کس قدر فراموش کر دیا ہے۔ اگر قائد اعظم کی بتائی ہوئی راہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو ہم نے سچے دل سے اپنایا ہوتا، تو شاید ہم ان عالمی طوفانوں کا مقابلہ زیادہ پختگی اور خود اعتمادی کے ساتھ کر سکتے۔ قائد نے ایک ایسا پاکستان چاہا تھا جہاں ہر شہری کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی فکر یا مذہب سے ہو، برابر کی آزادی اور تحفظ حاصل ہو۔ وہ ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے جو انصاف، محنت اور میرٹ کی پاسدار ہو۔
ہمارے لیے 11 ستمبر صرف ماضی کے صفحات کو پلٹنے یا رسمی طور پر آنسو بہانے کا دن نہیں ہے۔ یہ دن ایک عمیق محاسبے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قائد اعظم کا کام تو 1948ء میں مکمل ہو گیا تھا، مگر ان کے خواب کو زندہ رکھنا، اس ملک کو اندرونی انتشار سے بچانا اور عالمی برادری میں اس کی عزت و وقار کو بحال کرنا اب ہماری ذمہ داری ہے۔
اسی طرح عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور 9/11 جیسے واقعات کے اثرات سے سبق سیکھتے ہوئے، ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنے اندر برداشت، شائستگی اور حکمتِ عملی کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے قلم، اپنی سوچ اور اپنے عمل کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں کشیدگی اور نفرت کی جگہ علمی و عقلی مکالمہ لے سکے۔
آئیے! 11 ستمبر کے اس موقع پر ہم اپنے دلوں میں ایک خاموش اور سچا عہد کریں۔ ہم اپنے قائد کو خراجِ عقیدت صرف لفظوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے پیش کریں۔ چاہے ہم اپنے شعبے میں سچائی اور محنت کا دامن تھامیں، یا اپنے معاشرے میں عدم برداشت کے خلاف ایک نرم اور شائستہ آواز بنیں۔ہمیں قائد کے دیے ہوئے اصولوں پر قائم رہنا ہوگا۔ تاریخ انہی قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں اور حال کے چیلنجز کا مقابلہ تدبر اور عزم کے ساتھ کرتی ہیں۔ قائد اعظم کا پیغام آج بھی زندہ ہے، اور جب تک ہم ان کی مشعلِ راہ پر چلتے رہیں گے، امید کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا۔