میں چھ یا سات برس کی تھی جب میں نے اشفاق احمد کا ماہِ کنعان پہلی بار دیکھا تھا۔
یہ وہ ماہِ کنعان نہیں جسے آج کی نسل شاید شگفتہ اعجاز کی اداکاری کے حوالے سے یاد کرتی ہے۔ میرے ذہن میں جو ڈراما محفوظ ہے، وہ پرانا، بلیک اینڈ وائٹ پی ٹی وی کا ڈراما ہے، جس میں مہناز رفیع نے ایک عمر رسیدہ عورت کا کردار ادا کیا تھا۔
مجھے اس وقت نہ اشفاق احمد کی فکری دنیا سمجھ آتی تھی، نہ ایک محبت سو افسانے کی معنویت، نہ کہانی کے تہہ در تہہ اخلاقی سوالات۔
سچ تو یہ ہے کہ مجھے اس وقت بھی، اشفاق احمد سمجھ نہیں آتے ۔
لیکن ڈرامہ اچھا تھا۔
اور جو لوگ پرانے پی ٹی وی کو جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اچھا ڈرامہ صرف اچھی تحریر یا اچھے مکالموں کا نام نہیں ہوتا۔ ٹی وی پر تحریر جب اسکرین پر آتی ہے تو ہدایت کار اس کا دوسرا مصنف بن جاتا ہے۔ غلط ہاتھ میں اچھی سے اچھی تحریر بھی سپاٹ لگ سکتی ہے، اچھا ہدایت کار اسے سانس دے دیتا ہے۔
ماہِ کنعان کی ہدایت کاری محمد نثار حسین نے کی تھی۔ پی ٹی وی کے مایہ ناز پروڈیوسر اور ڈائریکٹر، جنہیں پاکستان میں ٹیلی پلے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے پی ٹی وی کے لیے متعدد کلاسک ڈرامے اور پروگرام پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیے اور پاکستانی ٹیلی وژن کی ابتدائی روایت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
اس ڈرامے میں ظفر مسعود بھی تھے۔ 1970 کی دہائی کے پی ٹی وی کے مقبول، خوبصورت اور باصلاحیت اداکار۔ اپنے عروج اور عین عالمِ شباب میں ایک حادثے کا شکار ہو کر دنیا سے چلے گئے۔
یہ سب مجھے اس وقت کچھ معلوم نہیں تھا۔
میں تو صرف ایک بچی تھی۔
لیکن آج سوچتی ہوں، 1975 کے آس پاس پاکستانی ٹیلی وژن پر ہم کس مشکل معاملے پر بات کر رہے تھے، اور 2026 میں ہمارا ٹی وی ڈرامہ کہاں کھڑا ہے؟
تب ایک ڈراما ایک ایسے گھر کے اندر جھانکنے کی جسارت کر رہا تھا جہاں عمر، خواہش، شادی، وفاداری، باپ، بیٹی، عورت اور اخلاق ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔
آج ہماری اسکرین پر دوسری شادی ہے، ساس بہو ہے، سبزی والا ہے، غریب لڑکی ہے، امیر لڑکا ہے، اور ہر چند دن بعد ایک نیا گھریلو راز۔
اور پھر بھی یہ سب بلاک بسٹر ہے۔
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے ناظرین مشکل کہانیاں نہیں سمجھ سکتے۔
شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں مشکل سوال دینا چھوڑ دیے ہیں۔
ماہِ کنعان روایتی معنوں میں حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی پر مبنی کوئی تاریخی یا مذہبی ڈراما نہیں تھا۔ اشفاق احمد نے ماہِ کنعان، یعنی کنعان کے چاند، حضرت یوسف علیہ السلام سے منسوب اس استعارے کو ایک جدید سماجی اور رومانوی تناظر میں استعمال کیا تھا۔
کہانی میں ایک عمر رسیدہ عورت اور ایک نوجوان کے درمیان ایک عجیب جذباتی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ عمر، حسن، کشش، تنہائی اور اخلاق ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے اس کا عنوان ماہِ کنعان ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا حوالہ صرف حسن و جمال کا حوالہ نہیں۔ اصل سوال آزمائش کا ہے۔ خواہش سامنے ہو اور انسان اپنے آپ کو روک سکے یا نہ روک سکے۔
ڈرامے کے آخر میں فریدہ، جس کا کردار مہناز رفیع نے ادا کیا تھا، نوجوان سے کہتی ہے:
"کسی اور وقت۔۔۔ کسی اور زندگی میں۔ ہر شخص یوسف نہیں ہوتا۔”
اس ایک جملے میں میرے لیے آج بہت کچھ ہے۔
کیونکہ چھ سات برس کی عمر میں مجھے اس مکالمے کی گہرائی کا کیا پتا تھا؟
میں تو بس دیکھ رہی تھی۔
ایک عورت۔
ایک مرد۔
خواہش۔
اور پھر ایک ٹوٹا ہوا گھر۔
لیکن ایک منظر میرے ساتھ رہ گیا۔
مہناز رفیع کی وہ عورت اپنے شوہر اور اپنی بیٹی کے بارے میں بتا رہی تھی۔ اس کا شوہر اپنی بیٹی کی ہم جماعت کے ساتھ چلا گیا تھا، اور اس صدمے کے بعد بیٹی نے اپنی زندگی ختم کر لی تھی۔
میں اس وقت اس واقعے کو سمجھنے کی عمر میں نہیں تھی۔
شاید مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شادی کیا ہوتی ہے، ازدواجی وفاداری کیا ہوتی ہے، یا ایک باپ کا اپنی بیٹی کی ہم جماعت کے ساتھ چلے جانا کس طرح پورے گھر کی دنیا بدل سکتا ہے۔
مگر مجھے وہ عورت یاد رہ گئی۔
بچپن میں ہم بعض کہانیاں نہیں سمجھتے۔
ہم صرف ان کے کچھ مناظر اپنے اندر رکھ لیتے ہیں۔
پھر عمر گزر جاتی ہے۔
اور کبھی کوئی پرانا منظر اچانک واپس آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ منظر شاید اس وقت بھی ہم سے کچھ کہہ رہا تھا، بس ہم اس کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔
آج، اتنے برس بعد، میں ماہِ کنعان کو ایک اور سوال کے ساتھ دیکھتی ہوں۔
مرد کے لیے عمر بڑھنے کے باوجود خواہش کا حق برقرار کیوں رہتا ہے، جبکہ عورت کی عمر بڑھتے ہی اس کی خواہش، اس کی تنہائی، اس کی محبت اور اس کے جسم پر معاشرہ اخلاق کی پہرے داری کیوں شروع کر دیتا ہے؟
مرد کی اخلاقی لغزش کو ہم اکثر بحران کہتے ہیں۔
عورت کی لغزش کو کردار۔
مرد کی دوسری محبت کو کبھی زندگی کا دوسرا موقع کہا جاتا ہے۔
عورت کی دوسری خواہش پر فوراً عمر، عزت، خاندان اور حیا کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔
مرد بوڑھا ہو جائے تو لوگ کہتے ہیں، دل تو جوان ہے۔
عورت کی عمر بڑھ جائے تو سوال آتا ہے، اس عمر میں؟
یہ "اس عمر میں” آخر کس نے ایجاد کیا؟
اور یہ صرف عورت کے لیے کیوں ہے؟
میں خواہش کو جرم نہیں بنا رہی۔
خواہش انسانی ہے۔
محبت انسانی ہے۔
تنہائی بھی انسانی ہے۔
ایک عمر کے بعد کسی انسان کا کسی دوسرے انسان کی طرف متوجہ ہونا بھی انسانی تجربے کا حصہ ہے۔
اصل سوال خواہش کا وجود نہیں۔
اصل سوال اختیار ہے۔ طاقت ہے۔ ذمہ داری ہے۔ اور اس خواہش کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔
ایک مرد اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اسے کیا ملا۔
یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پیچھے کون رہ گیا۔
بیوی کہاں گئی؟
بیٹی کہاں گئی؟
گھر کہاں گیا؟
اور وہ نوجوان لڑکی جس کے ساتھ وہ چلا گیا، اس کی عمر، اس کا اختیار، اس تعلق میں طاقت کا فرق، اس سب کے بارے میں ہم نے کبھی ٹھہر کر سوچا؟
مگر ہمارے معاشرے میں عجیب سہولت ہے۔
مرد کے فیصلے کو اس کی زندگی کا فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔
عورت کے فیصلے کو خاندان کا مسئلہ۔
مرد کی خواہش کو انسانی کمزوری۔
عورت کی خواہش کو کردار۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ماہِ کنعان میرے لیے صرف ایک پرانا ڈراما نہیں رہتا۔
یہ میرے لیے ایک آئینہ بن جاتا ہے۔
میں دیکھتی ہوں کہ اتنے برسوں میں ہم نے کیا بدلا؟
اسکرین بدل گئی۔
رنگ آ گئے۔
کیمرے بدل گئے۔
ڈرامے بڑے ہو گئے۔
بجٹ بڑھ گئے۔
لیکن کیا سوال بڑے ہوئے؟
یا ہم نے صرف اسکرین بڑی کی ہے؟
سنہ 1975 کے ایک بلیک اینڈ وائٹ ڈرامے میں ایک عورت کی عمر، ایک مرد کی خواہش، ایک بیٹی کا دکھ اور اخلاق کا سوال ایک ہی کہانی میں سما سکتا تھا۔
سنہ 2026 میں ہم عورت کو زیادہ تر کس چیز کے لیے دیکھتے ہیں؟
ساس بن کر۔
بہو بن کر۔
ماں بن کر۔
دوسری بیوی بن کر۔
کبھی پہلی بیوی، کبھی دوسری۔
کبھی مظلوم، کبھی سازشی۔
مگر عورت ایک مکمل انسان کے طور پر؟
ایک ایسی عورت جس کی عمر ہو، خواہش ہو، تنہائی ہو، غلطی ہو، انتخاب ہو، اور پھر بھی وہ صرف "اچھی عورت” یا "بری عورت” کے دو خانوں میں فٹ نہ ہو؟
یہ کردار ہماری اسکرین پر کتنے ہیں؟
اور اگر ہیں بھی تو کتنی دیر تک انہیں دیکھنے دیا جاتا ہے؟
شاید مسئلہ ہمارے ناظرین کا نہیں۔
شاید ہمارے تخلیق کاروں کے تخیل کا ہے۔
شاید ہمیں یقین ہی نہیں رہا کہ پاکستانی عورت مشکل سوال سن سکتی ہے۔
شاید ہم نے عورت کو اتنا عرصہ کرداروں میں بند رکھا ہے کہ اب ہمیں اس کی انسانیت بھی ڈرامائی لگتی ہے۔
اور پھر میں واپس اس پرانے منظر میں چلی جاتی ہوں۔
چھ سات برس کی ایک بچی۔
بلیک اینڈ وائٹ اسکرین۔
مہناز رفیع کا چہرہ۔
ایک عورت جو اپنے گھر کے ٹوٹ جانے کی کہانی سنا رہی ہے۔
تب میں صرف اس کا دکھ دیکھ رہی تھی۔
آج میں اس دکھ کے پیچھے اخلاق کا وہ ترازو بھی دیکھتی ہوں جس کے پلڑے ہمیشہ برابر نہیں رہے۔
مرد کی عمر بڑھ سکتی ہے۔
اس کی خواہش بھی۔
اس کی نئی زندگی بھی۔
عورت کی عمر بڑھتی ہے تو معاشرہ پہلے اس کی خواہش کا حساب لیتا ہے۔
پھر اس کے کردار کا۔
پھر اس کی حیا کا۔
اور آخر میں فیصلہ سناتا ہے:
اس عمر میں؟
شاید اسی لیے وہ بلیک اینڈ وائٹ منظر آج بھی میرے ساتھ ہے۔
تب میں اسے سمجھ نہیں سکتی تھی۔
اب بھی شاید پوری طرح نہیں سمجھتی۔
لیکن اب میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ کچھ کہانیاں ہم بچپن میں نہیں سمجھتے۔
وہ ہمیں سمجھنے میں پوری زندگی لگا دیتی ہیں۔