آج کل سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل کینوس پر روزانہ کتنے ہی پیغامات کا تضاد اور تانتا بندھا رہتا ہے کہ کئی بار اپنے اور جاننے والے لوگ بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ورچوئل دنیا کی اس چکاچوند میں جہاں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی خیراتی مشن کا علمبردار بنا پھرتا ہے، وہاں انسانی جذبے اور دکھ کو ایک کاروبار یا پروڈکٹ کی طرح پیش کرنے کا رحجان بھی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو آسان بنایا ہے، وہاں جذباتی استحصال، نمائش پسندی اور آن لائن فریب (Scam Tactics) کو بھی ایک باقاعدہ صنعت میں تبدیل کر دیا ہے۔ چاہے وہ فلاحی کاموں کے نام پر چندہ جمع کرنا ہو یا آن لائن روزگار کے جھوٹے خواب دکھا کر معصوم لوگوں کو لوٹنا، ان تمام چالوں کا بنیادی مقصد انسانی جذبات، مجبوری اور ناواقفیت سے مالی مفاد حاصل کرنا ہے۔
پنج ستارہ ہوٹل اور دو سالہ خاموشی
کچھ عرصہ پہلے لاہور کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، جہاں ایک نام نہاد فلاحی خاندان نے تمام بڑے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو ایک پرتعیش اور پرتکلف ہوٹل میں مدعو کیا۔ دعوت کا مقصد بظاہر یتیم اور ضرورت مند بچوں کی کفالت کا ایک بڑا پروجیکت تھا۔ ماحول کی چکاچوند اور بچوں کے نام کی سچی تڑپ سے متاثر ہو کر وہاں موجود بہت سے لوگوں کی طرح میں نے بھی اپنے حصے کا فنڈ فوراً مہیا کر دیا۔ دل میں یہ آس تھی کہ چلو کسی بے سہارا بچے کے دن پھر جائیں گے۔ لیکن کمال افسوس کی بات یہ ہے کہ دو سال گزر جانے کے باوجود اس بڑی محفل، بڑی بڑی باتوں اور گروپس میں چلنے والے پیغامات کے علاوہ زمین پر کوئی ٹھوس ثبوت یا عملی کام نظر نہیں آیا۔ وہ تمام بلند و بانگ دعوے محض واٹس ایپ گروپس اور فیس بک کی حد تک ہی سمٹ کر رہ گئے۔
یہ واقعہ اکیلا نہیں ہے۔ آج کل فلاح و بہبود کو باقاعدہ ایک پیشہ بنا لیا گیا ہے۔ کچھ لوگ جذبے کی آڑ میں اپنا نیٹ ورک چمکاتے ہیں، جہاں غریبوں کے نام اور آنسوؤں کو اسٹیج بنا کر اپنی عملی مہارت اور مارکیٹنگ سکلز کی نمائش کی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جب انسان سچے اور جھوٹے کا فرق مٹتے دیکھتا ہے تو دل کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ روزانہ کی ان فرضی کہانیوں اور دکھاوے کی دنیا نے اصل ضرورت مندوں کو بھی معاشرے میں شک کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
آن لائن روزگار کے نام پر "معکوس نفسیات” کا کھیل
فلاحی ڈراموں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ایک اور جدید چالبازی بھی عروج پر ہے جہاں لوگ اپنی نام نہاد کامیابی اور مجبوری کا ڈرامہ رچا کر معصوم نوجوانوں کو لُوٹتے ہیں۔
مثال کے طور پر، حال ہی میں ایک شخص کی تحریر نظر سے گزری جو یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ آن لائن کام سے ہر ماہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کما رہا ہے، لیکن اب اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (DHQ) سے جاب افر ہوئی ہے۔ اب وہ لوگوں کو اس طرح سے بے وقوف بنا رہا ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑنا نہیں چاہتا، لیکن اس کا ذکر اس انداز میں کر رہا ہے کہ لوگ خود اس سے پوچھیں یا اس کا بزنس خریدنے کی بات کریں۔
یہ مارکیٹنگ کا ایک انتہائی زہریلا حربہ ہے جسے "معکوس نفسیات” (Reverse Psychology) اور "خوفِ محرومی” (FOMO) کہا جاتا ہے۔ وہ کھلم کھلا یہ نہیں کہتا کہ "میرا کاروبار خریدو”، بلکہ وہ جانتا ہے کہ چونکہ سرکاری یا فوجی ملازمت کے ساتھ دوسرا بزنس کرنا قانونی طور پر ممنوع ہوتا ہے، اس لیے وہ اسی نقطے کا سہارا لے کر ایک سسپنس قائم کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر یہ اتنا منافع بخش کام چھوڑ رہا ہے تو ہم اس سے سیکھ لیں یا اس کا بزنس خرید لیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک وقت میں کتنے لوگوں کو قابو کرے گا؟
سوشل میڈیا اٹومیشن اور واٹس ایپ براڈکاسٹ کے ذریعے وہ ایک ہی وقت میں ہزاروں لوگوں سے بات کرتا ہے اور سکھانے کے نام پر یا بزنس فلپنگ (Business Selling) کے ذریعے ان سے پیسے بٹورتا ہے۔ وہ معصوم اور نئے آنے والے لوگوں کو اپنے نرغے میں لے آتا ہے، حالانکہ یہ صرف سوشل میڈیا کی ایک سوچھی سمجھی چال ہوتی ہے۔
معاشرتی تباہی اور ہماری اخلاقی ذمہ داری
اگر ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو سوشلی انفارم نہ کیا، ان کو ایجوکیٹ نہ کیا اور ان تمام طریقہ کار کے بارے میں نہ بتایا، تو یقیناً دور دراز کے لوگ انہیں غلط باتیں بتا کر ان کی روزی روٹی چھیننے کا باعث بنیں گے۔ نتیجے میں ان کے تمام خواب چکنا چور ہو جائیں گے اور ہمیں ایک ٹوٹا ہوا، مایوس اور عدمِ اعتماد کا شکار معاشرہ ملے گا۔
اس زوال پذیر ماحول سے نکلنے کا اب ایک ہی راستہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ان نام نہاد سخیوں، ہائی پروفائل فنڈ ریزنگ ڈراموں اور ڈیجیٹل دھوکے بازوں سے باہر نکلیں۔ ہمیں اپنے اردگرد، اپنی گلی محلوں اور ہمسائیگی میں نظر دوڑانی چاہیے۔ حقیقی نیکی کے لیے کسی فائیو سٹار ہوٹل کی ضیافت یا کیمرے کی آنکھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمارے اپنے اطراف میں کتنی ہی بیوہائیں، یتیم، اور کسمپرس خاندان موجود ہیں جن کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔
اگر فلاحی کام کرنا ہی ہے تو ان لوگوں کا ساتھ دیں جو عملی طور پر زمین پر نظر آتے ہیں، جن کا کام ڈھنڈورا پیٹنے کا محتاج نہیں ہوتا، یا پھر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے قریب ترین مستحقین تک پہنچیں۔ دکھاوے کی اس چکاچوند اور پیشہ ورانہ ہمدردی کے جال سے باہر نکل کر ہی ہم معاشرے میں کسی حقیقی بہتری کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔