درس نظامی کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری

آج میں ان والدین سے مخاطب ہوں جو اپنے بچوں کو دینی تعلیم (درس نظامی) دلوا رہے ہیں یا مستقبل میں دلوانا چاہتے ہیں۔ آپ اس کو آرٹ آف پیرنٹنگ ہی سمجھیں۔

ہمارے ہاں پاکستان میں، بالخصوص گلگت بلتستان میں، والدین اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور درس نظامی کی آٹھ سالہ تعلیم بہترین انداز میں دلاتے ہیں۔ والدین آٹھ، دس سال اس بچے پر اپنی محبتوں اور شفقتوں کی بارش فرما رہے ہوتے ہیں۔

یہ جملہ بارہا سننے کو ملتا ہے کہ "ہم نے یہ بچہ دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے اور یہ ہماری دنیا و آخرت کا سرمایہ ہوگا۔”

بلاشبہ اولاد کو دین کی تعلیم دلانا بڑی سعادت ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کی تربیت کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ،اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔(التحریم: 6)

لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس پر شاید ہم والدین تعلیم دلانے سے پہلے پوری طرح غور نہیں کرتے۔ جیسے ہی یہ بچہ قرآن حفظ کرکے درسِ نظامی کی تکمیل کرتا ہے تو اس پر آزمائشوں کے پہاڑ ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔

اب چونکہ اس بیچارے نے آٹھ، دس سال حفظ قرآن کیساتھ دینی علوم کی تکمیل کی ہوتی ہے۔ اب وہ مسجد اور مدرسہ میں کوئی خدمات انجام دے سکتا ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی بہت تیز اور ذکی ثابت ہوا تو کسی سکول یا کالج میں استاد بن سکتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ مدارس کی پیداوار بہت زیادہ ہے، نہ مساجد و مدارس میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ ان تمام فضلاء کو سمو سکیں۔ بالفرض کسی کو مسجد کی امامت یا مدرسہ کی تدریس مل بھی گئی تو وظیفہ اتنا کم ہوتا ہے کہ وہ بیچارہ اپنی فیملی کو چلا نہیں سکتا۔

یہاں آکر والدین کی وہ محبت، جو دس بارہ سال تک اس بچے پر بارش کی طرح برستی رہی ہوتی ہے، اب تقاضوں اور طعنوں میں بدل جاتی ہے۔ ہمارے ہاں والدین روزانہ طعنے دیتے ہیں کہ

"ہم نے آپ کو اتنی محنت سے پڑھایا، اب آپ ہمیں کیا دے رہے ہیں؟ تم سے تو زیادہ وہ ورکشاپ والا بچہ ہمیں خرچہ دیتا ہے۔”

آپ یقین کریں، ایسی کیفیت میں یہ بیچارہ مولوی، جس نے دس بارہ سال انتہائی محنت کرکے دینی علوم کی تکمیل کی تھی، جس کے اندر ٹیلنٹ بھی تھا اور دینی خدمات کا جذبہ بھی، لیکن بیوی بچوں سمیت والدین کے اس رویے پر حیران ہوجاتا ہے۔

کبھی کہیں نوکری تلاش کررہا ہوتا ہے، کہیں پر چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے لگتا ہے۔ بہرحال سروائیول کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوتا ہے، مگر بات نہیں بنتی، کیونکہ اس بیچارے نے دس بارہ سال میں دنیاداری اور کاروبار سیکھا نہیں ہوتا ہے، تو وہ مارے مارے پھرتا ہے۔ بالآخر وہ کوئی نوکری کے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے یا کسی کام میں کامیابی ملنی شروع ہوتی ہے۔

اب گھر اور والدین کی مالی خدمت تو کررہا ہوتا ہے، مگر وہ دینی خدمات، یعنی وعظ و نصیحت، درس و تدریس اور تحقیق و تالیف کا کام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاتا ہے۔

ہزاروں میں ایک دو جاری رکھ سکتے ہیں، ورنہ اکثر ضائع ہوجاتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام نے محض تعلیم حاصل کرنے کا نہیں بلکہ علم کو آگے پہنچانے کا بھی تصور دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

"بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً” میری طرف سے پہنچاؤ، خواہ ایک ہی آیت ہو۔” (صحیح البخاری)

اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا

"خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَه” "تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔” ( البخاری)

تو اگر ہم کسی بچے کو دس بارہ سال قرآن اور دینی علوم پڑھاتے ہیں تو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس علم کے بعد اس کی علمی و دینی زندگی کے لیے ہمارا منصوبہ کیا ہے؟

اب والدین سے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے بچے کو قرآن حفظ کرانے یا دینی تعلیم دلوانے سے پہلے ہزار بار سوچیں، سمجھ دار لوگوں سے مشاورت بھی کریں کہ آیا آپ اس بچے کو تعلیم کے بعد دینی خدمات کے لیے مزید کیا سپورٹ کرسکتے ہیں؟

کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اپنی جائیداد میں سے پانچ، دس کنال وقف کرکے اس مولوی بچے کو بہترین مدرسہ و مسجد بنانے کی داغ بیل ڈال دیں؟

یا اس شرط کے ساتھ کوئی مستقل آمدن، جیسے کوئی مکان یا دکان وغیرہ، اس کے نام کریں کہ یہ آپ کے لیے خصوصی ہے، اس شرط پر کہ آپ مسجد و مدرسہ میں کل وقتی تدریس یا دین کی کوئی اور خدمت کریں اور اپنے گھر کا خرچہ اس جائیداد سے چلائیں، یا کوئی اور مناسب طریقہ اختیار کریں۔

مقصد یہ ہے کہ جس بچے کو آپ نے دین کے لیے دس بارہ سال تیار کیا ہے، اس کے لیے دینی خدمت کا معاشی راستہ بھی ہموار کریں۔

قرآن کریم نے بھی انفاق اور خیر کے کاموں میں اپنے مال سے حصہ دینے کی ترغیب دی ہے۔اللہ کا ارشاد ہے۔

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون "تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔” (آل عمران: 92)

یہاں ایک نہایت اہم حدیث ذہن میں رکھنی چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ یعنی جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”(مسلم،1631)

اس حدیث پر ذرا غور کریں تو ہمارے اس پورے گفتگو کی ایک گہری معنویت سامنے آتی ہے۔ والدین اپنے بچے کو دینی تعلیم دلاتے ہیں، برسوں اس پر وقت، محبت، محنت اور مال خرچ کرتے ہیں، تو دراصل وہ صرف ایک بچے کو تعلیم نہیں دے رہے ہوتے بلکہ اپنے لیے ایک ایسا مستقبل تیار کر رہے ہوتے ہیں جس کا نفع ان کی زندگی کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ان کا مال اگر کسی دینی مقصد کے لیے وقف ہوجائے تو وہ صدقۂ جاریہ ہے، ان کے ذریعے بچہ اگر علمِ نافع حاصل کرکے آگے دوسروں تک پہنچائے تو وہ علمٌ يُنتفع به ہے، اور اگر وہ اسی تربیت کے نتیجے میں صالح انسان بن کر والدین کے لیے دعا کرتا رہے تو وہ ولدٌ صالحٌ يدعو له ہے۔ اس اعتبار سے بچے کو دینی تعلیم دلانا محض ایک تعلیمی فیصلہ نہیں، بلکہ والدین کے لیے آخرت کی سرمایہ کاری بھی ہے۔

یہاں ایک بات بہت اہم ہےجس بچے کو ہم دین کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہماری ذمہ داری صرف حفظِ قرآن یا درسِ نظامی مکمل کرا دینے پر ختم نہیں ہوجاتی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ واقعی علمِ دین سے امت کی خدمت کرے تو اس کی بنیادی معاشی ضروریات، رہائش، روزگار یا کسی مستقل ذریعۂ آمدن کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ ورنہ عین ممکن ہے کہ آٹھ دس سال کی محبت، محنت اور سرمایہ کاری کے بعد جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھے تو معاشی مجبوریوں کے ہاتھوں وہ اسی میدان سے نکلنے پر مجبور ہوجائے جس کے لیے ہم نے اسے تیار کیا تھا۔

اس لیے میری گزارش صرف اتنی ہے کہ بچے کو دین پڑھانے کا فیصلہ کریں تو اس کے مستقبل کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ اسے صرف عالم، حافظ یا قاری بنانے کی فکر نہ کریں بلکہ ایسا عالم، حافظ یا قاری بنانے کی فکر کریں جو عزتِ نفس کے ساتھ دین کی خدمت کرسکے۔

ممکن ہو تو اس کے لیے زمین، دکان، کوئی مستقل ذریعۂ آمدن یا کوئی ایسا انتظام ضرور سوچیں جس سے وہ معاشی پریشانیوں سے نسبتاً آزاد ہوکر علم و دین کی خدمت جاری رکھ سکے۔ یوں والدین کی آج کی محنت، کل ان کے لیے صدقۂ جاریہ، علمِ نافع اور صالح اولاد، تینوں صورتوں میں ثمر آور ہوسکتی ہے۔

لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے اور دس بارہ سال تعلیم دلانے کے بعد اس بیچارے مولوی کو اس دنیا میں دھکیل کر چھوڑنا چاہتے ہیں، جس کا اس کو تجربہ ہی نہیں، اور پھر اس سے ڈیمانڈ بھی کرنے لگ جاتے ہو، تو براہ کرم، اس کو اسلامی تعلیم دلاکر مشکلات میں نہ ڈالیں، بلکہ اس کو دنیاداری سیکھا دیں۔

باقی وہ جو مروجہ دینداری ہے، وہ تبلیغ میں سال لگانے یا کسی خانقاہ میں کچھ وقت گزارنے سے آجائے گی۔

میرا مقصد دینی تعلیم کی حوصلہ شکنی ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، میری عرض تو یہ ہے کہ اگر کسی بچے کو دین کے لیے منتخب کیا ہے تو پھر اس کے مستقبل کی ذمہ داری بھی اسی سنجیدگی سے قبول کیجیے جس سنجیدگی سے آپ نے اسے دین کے لیے منتخب کیا تھا۔

بچے کو صرف حافظ، عالم یا فاضل بنانا کافی نہیں،
اسے ایسا حافظ، عالم اور فاضل بنانا بھی ضروری ہے جو عزتِ نفس کے ساتھ علمِ دین کی خدمت جاری رکھ سکے۔

یہی شاید آرٹ آف پیرنٹنگ کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر ہمیں دینی تعلیم کے تناظر میں بھی نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے