گلگت بلتستان میں پاکستان کے بڑے دینی مدارس کے ہزاروں فضلاء موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ جامعہ فاروقیہ کراچی اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے فضلاء ہیں۔ آج کل اسلام آباد کے مدارس سے بھی بڑی تعداد میں درس نظامی کی تکمیل کرکے فضلاء جی بی تشریف لاتے ہیں۔
یہ فضلاء اپنے اپنے اساتذہ اور مدارس سے رابطے میں رہتے ہیں۔ استاد اور مدرسے سے تعلق محض چند سالہ تعلیمی نسبت نہیں ہوتا، یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو فراغت کے بعد بھی آدمی کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ البتہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی دوری کی وجہ سے کبھی کبھی کمیونیکیشن گیپ بھی واقع ہوجاتا ہے۔
بڑے مدارس و جامعات، مثلاً جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعۃ الرشید وغیرہ، کی اپنے فضلاء سے رابطہ کاری مربوط ہے۔ جب بھی ان مدارس کے بڑے حضرات گلگت تشریف لاتے ہیں تو وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے فضلاء سے خصوصی ملاقاتیں کرتے ہیں، ان کا حال احوال پوچھتے ہیں، مسائل سنتے ہیں اور مشاورت بھی کرتے ہیں۔ ایسی نشستوں کے متعلق میرے پاس تفصیلات موجود ہیں۔
لیکن آج بھی میرے ذہن میں ایک واقعہ خاص طور پر محفوظ ہے۔
غالباً ستمبر 2020 کی بات ہے۔ استاد محترم ڈاکٹر عادل خان شہید، ناظمِ اعلیٰ جامعہ فاروقیہ و نائب مہتمم ، تین روزہ دورے پر گلگت تشریف لارہے تھے۔ حضرت کی آمد کا بڑا شوق و انتظار تھا۔ تین دن کا شیڈول ذہن میں تھا اور میں نے بھی اپنے طور پر ایک چھوٹی سی نشست کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔
ارادہ یہ تھا کہ حضرت کو اپنے گھر مدعو کروں اور جامعہ فاروقیہ کے ان احباب، فضلاء اور متعلقین کو اکٹھا کروں جن سے میرا تعلق تھا۔ مقصد کوئی رسمی دعوت نہیں، بلکہ ایک ایسی بے تکلف نشست تھی جہاں پرانے شاگرد اپنے بزرگ استاد سے ملیں، کچھ دل کی کہیں، کچھ علمی باتیں ہوں اور کچھ آئندہ کے لیے رہنمائی حاصل کریں۔
مگر قدرت کو شاید کچھ اور منظور تھا۔
بار بار جہاز کینسل ہوتا رہا اور تین دن کا پروگرام سمٹتے سمٹتے آخری دن تک پہنچ گیا۔ بالآخر حضرت بائی روڈ جامعہ نصرۃ الاسلام کی ختمِ بخاری کے لیے تشریف لائے۔
میں چونکہ جامعہ نصرۃ الاسلام کا استاد ہونے کی وجہ سے حضرت کے استقبال کرنے والوں میں تھا، اس لیے موقع غنیمت جان کر اپنی اس خواہش کا ذکر کردیا۔
عرض کیا
” استاد جی! آپ کے تین دن کا شیڈول بنایا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ ایک خصوصی ملاقات میرے گھر میں صرف ان احباب کے ساتھ ہوتی جو جامعہ فاروقیہ کے فضلاء ہوں۔”
مجھے توقع تھی کہ حضرت شاید خوش ہوں گے کہ اپنے فضلاء کے لیے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
لیکن حضرت نے میری طرف دیکھا۔ نگاہ میں ہلکی سی ترشی تھی۔ چند لمحے رکے اور فرمایا
"صرف فاروقیہ کے فضلاء کے ساتھ نشست کرنا قرین انصاف نہیں، میں کم از کم یہ تعصب نہیں برتتا۔ آپ بلاتے تو اس شرط پر آتا کہ تمام مدارس کے فضلاء کو آنے کی اجازت ہوتی۔”
میں خاموش ہوگیا۔
بات مختصر تھی، مگر میرے لیے اس میں ایک پورا سبق پوشیدہ تھا۔
اپنے مدرسے، اپنے اساتذہ، اپنے فضلاء اور اپنی علمی نسبت سے محبت اپنی جگہ ایک فطری اور خوب صورت چیز ہے۔ آدمی جس ادارے سے پڑھتا ہے، اس سے نسبت پر فخر بھی کرتا ہے اور اپنے ہم درسوں سے مل کر خوش بھی ہوتا ہے۔ بڑے مدارس کے فضلاء کا اپنے اداروں سے مضبوط تعلق دراصل ان اداروں کی ایک بڑی قوت بھی ہے۔
لیکن بعض اوقات یہی نسبت ایک محدود دائرہ بھی بنا دیتی ہے۔
میں اسے "پیداواری عصبیت” کہتا ہوں۔ یعنی آدمی اپنے مدرسے سے نکلتا ہے، اپنے مدرسے کے لوگوں کو تلاش کرتا ہے، اپنے مدرسے کے فضلاء سے جڑتا ہے اور اسی علمی خاندان کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔ اس میں محبت بھی ہے، تعلق بھی، ادارہ جاتی قوت بھی اور بہت سی افادیت بھی۔
لیکن ڈاکٹر عادل خان شہید کی بات نے مجھے یہ سمجھایا کہ اس نسبت سے اوپر اٹھ کر پورے علمی معاشرے کو دیکھنا اس سے بھی بڑی چیز ہے۔بہرحال، بڑے لوگ بڑے ہوتے ہیں۔ ان کے چند جملے بھی کبھی کبھی طویل تقریروں سے زیادہ دیر تک آدمی کے ساتھ رہتے ہیں۔
باقی یہ ذہن میں رہے کہ دارالعلوم کراچی، جامعۃ الرشید، جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا یا کسی دوسرے ادارے کے اکابرین و اساتذہ پر اعتراض نہیں کہ وہ اپنے فضلاء کے ساتھ کیوں بیٹھتے ہیں۔ اپنے فضلاء کو ڈھونڈنا، ان سے ملنا، ان کی خبرگیری کرنا اور ان کے ساتھ مشاورت کرنا بالکل درست اور مفید کام ہے۔ بلکہ مدارس کو اپنے فضلاء کے ساتھ یہ تعلق مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
میری گزارش صرف اتنی ہے کہ بڑے مدارس و جامعات کے اکابرین کسی علاقے میں تشریف لے جائیں تو ڈاکٹر عادل خان شہید کی طرح "پیداواری عصبیت” سے بلند ہوکر تمام متحرک فضلاء و علماء سے بھی مشاورتی و کونسلنگ کی نشستیں کرنی چاہیے۔
خاص طور پر گلگت بلتستان جیسے خطے میں، جہاں پاکستان کے تقریباً تمام بڑے دینی مدارس کے فضلاء موجود ہیں، ایسی نشستوں کی افادیت کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
ایک بزرگ عالم دین اگر اپنے سو فضلاء سے ملتا ہے تو وہ سو افراد کو فائدہ دیتا ہے، لیکن اگر وہ مختلف مدارس، مکاتب فکر اور علمی پس منظر رکھنے والے علماء و فضلاء کے ساتھ بیٹھتا ہے تو شاید وہ پورے معاشرے کے لیے زیادہ مفید بن جاتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اپنے مدرسے کے فضلاء سے تعلق محبت ہے، اور سب مدارس کے فضلاء سے تعلق وسعت۔ اور بڑے علماء و حضرات کسی خاص کے بڑے نہیں ہوتے ہیں لہذا انہیں نے "وسعت” کا ثبوت دینا چاہیے نہ کہ پیداواری عصبیت کا۔
ڈاکٹر عادل خان شہید کی وہ مختصر سی بات آج بھی یاد آتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بعض شخصیات اپنے جانے کے بعد بھی اپنے جملوں کے ذریعے لوگوں کی تربیت کرتی رہتی ہیں۔ شیڈول ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے میرے گھر میں حضرت رحمہ اللہ کے ساتھ وہ نشست تو نہ ہوسکی، مگر حضرت نے ایک ایسی بات کہہ دی جو آج تک میرے ذہن میں ایک نشست کی طرح قائم ہے۔
میں امید کرتا ہوں کہ میرا یہ پیغام ان بڑے مدارس و جامعات کے تمام بزرگوں تک پہنچے جو کسی بھی علاقے میں جاکر "پیداواری عصبیت” سے بالاتر ہوکر سب سے ملیں، سب کی رہنمائی کریں اور جو کام کرتے ہیں ان کی بلاتفریق سرپرستی بھی کریں اور حوصلہ افزائی بھی۔