[pullquote]شام میں اسرائیل کا حزب اللہ کی چوکیوں پر حملہ[/pullquote]
شام کے وسطی علاقے میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شامی میڈیا نے بتایا ہے کہ علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ایک اسلحے کے ڈیپو کو میزائل کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ تاہم اسرائیل نے اس حوالے سے ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسلحہ کا یہ ڈیپو ایران نواز لبنانی شیعہ حزب اللہ تحریک کا تھا۔ اس حملے سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے جنوبی شام میں سرکاری فورسز اور ان کے حامی ایران نواز جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
[pullquote]یونیسیف کو ویکسین کی ترسیلات میں مشکلات کا سامنا[/pullquote]
کووڈ انیس کی عالمگیر وبا کے باعث دنیا بھر میں کمرشل پروازوں میں کمی اور چارٹر فلائٹوں کی محدود فراہمی کی وجہ سے یونیسیف کو ویکسین کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ یونیسیف نے حکومتوں، نجی شعبے اور ایئر لائن انڈسٹری سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی جان بچانے والی ویکسینوں کے لیے سستی قیمت پر مال برداری کی جگہ فراہم کریں۔ رواں ماہ اٹھارہ مئی کو متوقع عالمی ادارہ صحت کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے ساتھ ساتھ اس مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس مرتبہ ڈبلیو ایچ او کا سالانہ اجلاس آن لائن منعقد کیا جائے گا۔
[pullquote]بھارت میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد پینتیس ہزار سے تجاوز کر گئی[/pullquote]
بھارت میں نئی قسم کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد پینتیس ہزار سے زائد جبکہ گیارہ سو سینتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں دو ہزار کے قریب نئے مریض نوٹ کیے گیے اور تہتر ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں متاثرہ مریضوں کے صحت یاب ہونے والوں کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بھارتی وزارت صحت کے مطابق یکم مئی کی صبح تک کووڈ انیس کے مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح پچیس اعشاریہ چھتیس فیصد ہوگئی ہے اور مجموعی طور پر تقریبا نو ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
[pullquote]کورونا وائرس کا آغاز ووہان کی ایک تحقیقاتی لیبارٹری سے ہوا، ٹرمپ[/pullquote]
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کا آغاز چینی شہر ووہان کی ایک تحقیقاتی لیبارٹری ‘ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ویرولوجی’ سے ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کی طرف سے کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق بیجنگ حکومت اپنے ملک میں اس وائرس کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا پھر روکنا نہیں چاہتی تھی۔ ان کے بقول اس مہلک وائرس کے نتیجے میں دنیا بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے بیجنگ حکومت کے خلاف مزید پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔
[pullquote]کورونا وائرس کے ایک ملین سے زائد مریض صحت یاب ہو گئے[/pullquote]
دنیا بھر میں نئی قسم کے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے آج یکم مئی کی صبح تک بتیس لاکھ سڑسٹھ ہزار آٹھ سو سڑسٹھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اس مہلک وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ تینتیس ہزار پانچ سو ساٹھ بتائی جا رہی ہے۔ جان ہوپکنز یونیورسٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کووڈ انیس کے مرض میں مبتلا تین ملین سے زائد مریضوں میں سے دس لاکھ بیس ہزار چار سو چھیالیس افراد دوبارہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ امریکا میں سب سے زیادہ، ایک لاکھ تریپن ہزار نو سو سینتالیس جبکہ جرمنی میں ایک لاکھ چھبیس ہزار نو سو مریض کورونا کے خلاف جنگ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
[pullquote]کورونا وائرس: ترکی میں دوبارہ کرفیو نافذ[/pullquote]
ترکی کے اکتیس شہروں میں گزشتہ شب سے آئندہ تین روز کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں بھی عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔ سپر مارکیٹیں صرف دوپہر دو بجے تک کھلی ہوں گی جبکہ ہسپتال، میڈیکل اسٹور اور دیگر ضروری سہولیات فعال رہیں گی۔ ترکی میں بیس سال سے کم عمر اور پینسٹھ سال سے زائد عمر کے افراد پر گھروں سے باہر نکلنے پر پہلے سے پابندی عائد ہے۔ ترکی میں اب تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ بیس ہزار دو سو کیسز کی تصدیق کی گئی ہے اور اس مہلک وائرس سے تین ہزار دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
[pullquote]ایمیزون کے ملازمین دو اکتوبر تک گھر سے کام کر سکتے ہیں[/pullquote]
امریکی ای کامرس کمپنی ایمیزون نے اپنے ملازمین کو دو اکتوبر تک گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے امریکا میں ایمیزون کے گوداموں میں ملازمین کی موجودہ صورت حال پر تشویش پائی جا رہی تھی۔ ایمیزون کے ترجمان کے بیان مطابق ایسے ملازمین جو ہوم آفس کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں، ان کو دو اکتوبر تک گھروں سے کام کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ کمپنی کے کتنے فیصد ملازمین گھروں سے فرائض سرانجام دیں گے۔
[pullquote]مزدوروں کے عالمی دن کی ریلیاں کورونا لاک ڈاؤن سے متاثر[/pullquote]
کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے متعدد ممالک میں نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آج یکم مئی کے روز مزدوروں کے عالمی دن پر منعقد ہونے والی ریلیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ بعض یورپی ممالک میں مزدوروں کی تنظیمیں احتیاطی تدابیر کے پیش نظر آن لائن تقریبات کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فرانس میں لاک ڈاون کی وجہ سے مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر یا پھر اپنے اپنے گھر کی بالکونیوں سے اس دن کو منائیں گے۔ جرمنی میں لوگوں کو محدود تعداد میں چہرے پر ماسک پہن کر ریلیوں میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
[pullquote]بیجنگ میں پارکس اور میوزیم عوام کے لیے دوبارہ کھول دیے گئے[/pullquote]
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں متعدد عوامی پارکس اور میوزیم شہریوں کے لیے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ بیجنگ حکومت کی جانب سے سیاحتی مقامات کو بھی جزوی طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت کورونا وائرس کی عالمی وبا کے سبب ملک گیر لاک ڈاؤن میں نرمی کے سلسلے کا آغاز ہے۔ عوامی مقامات میں یومیہ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار شہریوں کے داخلے کی اجازت ہو گی۔ اطلاعات کے مطابق چین میں یہ اقدامات یکم مئی سے شروع ہونے والی پانچ روزہ تعطیلات کے آغاز اور بائیس مئی کو چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس سے قبل متعارف کروائے گئے ہیں۔
[pullquote]جرمنی، کورونا لاک ڈاؤن میں مزید نرمی[/pullquote]
جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور ملک کے صوبائی حکام نے کورونا وائرس کے سبب ملک گیر لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ چانسلر میرکل کے مطابق ملک میں بچوں کے کھیل کے مقامات، میوزیم، عبادت گاہیں، چڑیا گھر اور سیر گاہوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ دوبارہ کھول دیا جانا چاہیے۔ حکام نے دیگر مذہبی مقامات کو بھی بتدریج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح ملک بھر میں چرچ کی خدمات بھی ایک مرتبہ پھر ممکن ہو سکیں گی۔ اس حوالے سے ریاستی حکومتوں کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ جرمنی کی ریاست سیکسنی اور تھیورنگیا میں پہلے ہی مذہبی اجتماعات کی اجازت مل چکی ہے۔
[pullquote]جرمنی، بیماری کے باعث چھٹیاں لینے والے ملازمین کی تعداد میں حیران کن اضافہ[/pullquote]
کورونا وائرس کے دوران جرمنی میں بیماری کی وجہ سے ملازمت سے چھٹیاں لینے والے افراد کی تعداد میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جرمن اخبار آگسبرگر آلگیمائن کے مطابق ہیلتھ انشورنس کمپنی (جی کے وی) نے مارچ کے مقابلے میں اپریل کے مہینے میں تینتالیس فیصد زیادہ بیمار افراد نوٹ کیے ہیں۔ ملک بھر میں اس ہیلتھ انشورنس سے وابستہ اور بیماری کی وجہ سے کام کرنے سے قاصر افراد کی تعداد اپریل میں دو ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم جرمن اخبار کے مطابق سن 2017 اور 2018ء کے دوران پھیلنے والے فلو کی شدید لہر کے بعد بیماری کی وجہ سے چھٹیاں لینے والے افراد کی تعداد اس سے بھی زیادہ تھی۔