[pullquote]کابل ہسپتال حملہ، کم از کم 19 افراد ہلاک، 50 زخمی[/pullquote]
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک ہسپتال پر حملے کے نتیجے میں کم از کم انیس افراد ہلاک جبکہ تقریبا پچاس زخمی ہو گئے ہیں۔ طالبان حکام نے دو دھماکوں کی تصدیق کی ہے جبکہ عینی شاہدین نے فائرنگ کا بھی بتایا ہے۔ ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ طبی ماہرین نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان دھماکوں کے حوالے سے معلومات ابھی موصول ہو رہی ہیں۔
[pullquote]دنیا بھر میں تین عشروں میں چودہ سو سے زائد صحافیوں کا قتل[/pullquote]
انیس سو بانوے سے لے کر اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر چودہ سو سے زائد صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ نیدرلینڈز کے دارالحکومت دی ہیگ میں قائم ایک پیپلز ٹریبیونل اب ان میں سے قتل کے کئی چیدہ چیدہ واقعات کی چھان بین کرے گا۔ دی ہیگ میں اس مستقل عوامی عدالت کا قیام صحافیوں کی تین بڑی بین الاقوامی تنظیموں کی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہو سکا ہے۔ یہ تنظیمیں رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز، فری پریس اَن لمیٹڈ (ایف پی یو) اور صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی سی پی جے ہیں۔
[pullquote]تاپی گیس پائپ لائن: طالبان کی ترکمانستان کو سکیورٹی کی یقین دہانی[/pullquote]
طالبان نے ترکمانستان کو تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل اور سیکورٹی یقینی بنانے کا یقین دلایا ہے۔ یہ گیس پائپ لائن ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ تاپی منصوبے کی تکمیل کے بعد خطے میں اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھلنے کی امیدیں ہیں۔ موجودہ دور کے شاہراہ ریشم قرار دیے جانے والے تاپی پروجیکٹ کو ابتدا سے ہی سیاسی، جغرافیائی اور سلامتی کے حوالے سے خطرات کا سامنا ہے۔ ترکمانستان کی وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ ہفتے ترکمانستان حکومت کے ایک وفد نے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ وفد نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ تاپی منصوبے کے مستقبل پر بھی بات چیت کی تھی۔
[pullquote]ایک سو ممالک کا جنگلات کی کٹائی روکنے کا عہد[/pullquote]
گلاسگو میں عالمی ماحولیاتی سربراہی اجلاس میں ایک سو سے زائد ممالک نے سن 2030 تک جنگلات کی تباہی کو روکنے کا عہد کیا ہے۔ اس منصوبے میں شامل ممالک، بشمول جرمنی اور پوری یورپی یونین دنیا کے 85 فیصد جنگلاتی رقبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ رقبہ تقریباً 34 ملین مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اس معاہدے میں سب سے بڑے جنگلات والے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں کینیڈا، روس، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، چین، ناروے اور جمہوریہ کانگو شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے تقریباً 12 ارب امریکی ڈالر جمع کیے جائیں گے۔
[pullquote]عالمی آبادی میں جاری اضافے میں کمی[/pullquote]
گزشتہ تیس برسوں میں دنیا کی آبادی میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات جرمن فاؤنڈیشن فار ورلڈ پاپولیشن (ڈی ایس ڈبلیو) کی ایک نئی رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔ اس پیش رفت کی وجہ شرح پیدائش میں کمی بتائی گئی ہے۔ یہ شرح سن 1990 میں اوسطاً 3.2 بچے فی عورت تھی، جو اب کم ہو کر 2.3 بچے فی عورت پر آ گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان قدریں بہت مختلف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک میں اس وقت سب سے زیادہ شرح پیدائش 4.7 بچے فی عورت ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً 7.9 ارب ہے۔
[pullquote]بلغاریہ نے ترک سرحد پر فوجی تعینات کر دیے[/pullquote]
بلغاریہ نے مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ترکی کے ساتھ اپنی سرحد پر 350 فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ اس ملک کے وزیر دفاع جورجی پنایوٹوف نے اس کی تصدیق کی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق رواں سال 6500 سے زائد افراد نے غیر قانونی طور پر بلغاریہ اور ترکی کی سرحد عبور کی۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں تین گنا زیادہ بنتی ہے۔ تقریباً 260 کلومیٹر طویل بلغاریہ کی ترک سرحد یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں میں سے ایک ہے۔ مہاجرین یورپ کے امیر ممالک تک پہنچنے کے لیے یہ راستہ اب تواتر سے استعمال کرنے لگے ہیں۔
[pullquote]نائیجریا میں کئی منزلہ عمارت منہدم، چھ افراد ہلاک، ایک سو ملبے تلے[/pullquote]
نائیجیریا کے سب سے بڑے شہر لاگوس میں ایک بلند عمارت کے منہدم ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم چھ ہو گئی ہے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق اب بھی تقریباﹰ 100 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا شبہ ہے جبکہ سات افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ ایک متمول علاقے میں واقع یہ اکیس منزلہ عمارت پیر کو منہدم ہو گئی تھی جبکہ اس حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ مشتعل رہائشیوں نے امدادی اقدامات کی سست رفتاری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سن 2014 میں لاگوس میں ایک چرچ کے گیسٹ ہاؤس کے گرنے سے ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
[pullquote]ماہی گیری کا تنازعہ، فرانس نے برطانیہ کے خلاف پابندیاں ملتوی کر دیں[/pullquote]
ماہی گیری کے تنازعے میں فرانس نے فی الحال برطانیہ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے خلاف مجوزہ پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے کو ایک دن کے لیے ملتوی کیا جا رہا ہے۔ اس طرح دونوں فریق اپنے اختلافات کو دور کرنے کے لیے نئی تجاویز پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے درمیان ماہی گیری کے حقوق کا تنازعہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد شروع ہوا تھا۔
[pullquote]ایک آئل ٹینکر پر قزاقوں کے نئے حملے کو ناکام بنا دیا، ایران[/pullquote]
ایرانی نیوز ایجنسی ایسنا کے مطابق خلیج عدن میں ایرانی آئل ٹینکر پر قبضہ کرنے کے لیے بحری قزاقوں کے ایک حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ گزشتہ پندرہ روز پیش آنے والا یہ اس طرح کے دوسرا واقعہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چھ قزاقوں نے آئل ٹینکر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایرانی بحریہ کی انتباہی فائرنگ کے بعد وہ فرار ہو گئے۔ سولہ اکتوبر کو بھی دو ایرانی آئل ٹینکروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایران بھی کئی دوسرے ممالک کی طرح بحیرہ احمر اور سویز کینال کے ذریعے تیل کی ترسیل کرتا ہے۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو