الیکشن کرا کر دیکھ لیں!

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں علامہ اقبال کے مقابلے میں الیکشن لڑوں گا اور جیت کر دکھائوں گا۔ یہ مقابلہ ان کی اور میری شاعری کے درمیان ہو گا اور یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ علامہ اقبال بڑے شاعر ہیں یا میں بڑا شاعر ہوں مجھے بعض معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس مقابلے کی صورت میں حکومت مجھے جتوانے کی بھرپور کوشش کرے گی چنانچہ میرا ارادہ آئندہ چند دنوں میں حکومتی سربراہ سے ملاقات کا ہے میں یقینی کامیابی کے لئے ان کے سامنے چند تجاویز رکھوں گا مگر اس سے پہلے یہ تجاویز میں آپ کے ساتھ SHAREکرنا چاہتا ہوں۔ میری پہلی تجویز یہ ہے کہ متذکرہ الیکشن سے پہلے پاکستان کی تمام لائبریریوں اور بک اسٹالوں سے علامہ اقبال کی کتابیں غائب کردی جائیں۔ اس کے علاوہ خفیہ اداروں کی مدد سے پتہ لگایا جائے کہ وہ کون لوگ ہیں جو یہ کتابیں پڑھتے ہیں ان کے گھروں پر چھاپے مار کر یہ کتابیں برآمد کی جائیں جن لوگوں کو کلام اقبال زبانی یاد ہے یا جو ماہرین اقبالیات ہیں انہیں گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا جائے میڈیا کو کنٹرول کرنے والے پیمرا آرڈیننس کو مزید موثر بنانے کے لئے ان چھاپوں اور گرفتاریوں کی خبریں الیکٹرانک میڈیا سے نشر کرنے کی ممانعت ہو نیز پرنٹ میڈیا میں بھی ان خبروں کو زیادہ اچھالنے کی اجازت نہ دی جائے۔

نامعلوم مقامات پر منتقل افراد کے اہلخانہ اگر عدالت کا رخ کرنا چاہیں تو انہیں اس کی اجازت ہونا چاہئے کیونکہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے مبینہ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کےلئے جس طرح میڈیا اور عدالتوں کو خاموش تماشائی بنا دیا گیا ہے اس کے بعد ان لوگوں کا واویلا بھی ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔اس کے ساتھ علامہ اقبال کے خلاف ایک مربوط اور موثر پروپیگنڈہ مہم بھی شروع کی جانی چاہئے میرے ذہن میں کچھ ایسے نقاد ہیں جو یہ کام کافی عرصے سے بہت تندہی سے کر رہے ہیں مگر ان کی باتوں پر کبھی کسی نے کان نہیں دھرا۔نائن الیون اور 9 مئی کے بعد انہیں یہ لائن دی جاسکتی ہے کہ اقبال دہشت گردی کے حامی تھے اور اس کے ثبوت کے طور پر ان کے کلام میں سے فرنگیوں کے خلاف کی گئی شاعری کے تراجم ’’فرنگیوں کی تمام زبانوں میں کئے جائیں اور انہیں امریکہ اور یورپ میں پھیلا دیا جائے اور موازنے کے طور پر میرا لبرل امیج دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے میری فاسقانہ شاعری کے تراجم بھی شائع کرائے جائیں اس سے مجھے مغرب کی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی اس کیلئے میں سور کے ساتھ تصویریں کھنچوانے کیلئے بھی تیار ہوں بلکہ مجھے جو انتخابی نشان الاٹ کیا جائے وہ وہسکی کی بوتل ہو۔

الیکشن جیتنے کے لئے الیکشن سے پہلے کئے گئے اقدامات میں سے ایک اقدام یہ بھی ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن میری خواہش کے مطابق تشکیل دیا جائے تاکہ اگر کسی موقع پر میرے مقابلے میں علامہ اقبال کے کاغذات مسترد کرنے کی ضرورت بھی پڑے تو یہ کام بآسانی ہو سکے اور یوں مجھے بلامقابلہ کامیاب قرار دیا جا سکے میری ایک تجویز یہ بھی ہے کہ حکومت مجھے اپنے صوابدیدی فنڈز یا مختلف ایجنسیوں کے ان فنڈز سے جو آڈٹ نہیں ہوتے لامحدود فنڈز مہیا کرے تاکہ تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات میں بھرپور اشتہاری مہم چلائی جاسکے ۔اس کے علاوہ کروڑوں کی تعداد میں بینرز تیار کرکے شہروں، قصبوں اور دیہات میں لگا دیئے جائیں تاکہ لوگوں کو آسمان سے آنے والی روشنی سے محروم کرکے انہیں اندھا بنایا جاسکے ۔نیز ووٹ خرید کر ووٹروں کے شناختی کارڈ اپنے قبضے میں کر لئے جائیں اور پھر یہ ووٹ کسی ’’بھوت پولنگ اسٹیشن‘‘ سے میرے بیلٹ بکس میں سے برآمد ہوں۔انتخاب سے قبل علامہ اقبال کے کسی پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ وغیرہ بھی ہونی چاہئے تاکہ ووٹر بوجوہ خوف اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ جائیں ۔

اس کے علاوہ ضروری ہے کہ جو مضبوط جسموں والے سفید پوش حضرات سول سوسائٹی کی ریلیوں میں پولیس کےساتھ مل کر وحشیانہ پٹائی کرتے رہے ہیں انہیں پولنگ اسٹیشنوں پر امن قائم رکھنے کے لئے متعین کیا جائے اور جب کسی پولنگ اسٹیشن پر مکمل طور پر امن ہو جائے تو یہ سفید پوش دستے پوری چابک دستی سے علامہ اقبال کے بھرے ہوئے ووٹ باکس دونوں بغلوں میں دبا کر موقع سے فرار ہو جائیں۔ ان سفید پوش شرفاء میں سے ان افراد کو اس کام کے لئے ترجیح دی جائے جو میراتھن ریس میں حصہ لیکر کوئی پوزیشن حاصل کر چکے ہیں۔پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا کے سر پھرے ارکان جو کسی صورت بکنے اور جھکنے کے لئے تیار نہیں ہیں انہیں مزید اربوں روپے کی زک پہنچائی جائے ۔ان تجاویز کے علاوہ اور بھی بہت سی تجاویز میرے ذہن میں ہیں جو میرے اور علامہ اقبال کے درمیان ہونے والے الیکشن کو شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

تاہم ان کے بارے میں روزانہ ہونے والی واقعاتی تبدیلیوں کے ساتھ کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا مجھے بہرحال یقین کامل ہے کہ میرے ذہن میں شفاف انتخابات کا جو نقشہ ہے اس پر پوری طرح عملدرآمد کی صورت میں علامہ اقبال میرے مقابلے ٹھہر نہیں سکیں گے لیکن بالفرض محال اگر اقبال سے محبت کرنے والوں کی غیرت جاگ اٹھی اور وہ مجھے ہرانے پر تل گئے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ عوام تو فرعونوں کے تخت و تاج بھی ہوا میں اچھالتے رہے ہیں تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا اور مجھے ’’عوام‘‘ علامہ اقبال سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں تو پھر حکومت سے میری گزارش ہو گی کہ آئندہ تاریخ کی کتابوں میں بھی تصور پاکستان کے خالق کے طور پر اقبال کی بجائے میرا نام لکھا جائے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے