کبھی کسی صوفی نے کسی کو خارج از اسلام قرار نہیں دیا۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

ادارہ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ صوفیاء ہمیشہ لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے رہے، جبکہ تکفیری رویے اور انتہاپسند ملا لوگوں کو اسلام سے خارج کرتے رہے۔

وہ بھارت میں منعقدہ عالمی صوفی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ تصوف کوئی جامد شے نہیں بلکہ حیوانی صفات کو ختم کرکے ملکوتی صفات پیدا کرنے کے سفر کا نام ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شریعت اعتدال کا نام ہے۔ طریقت اپنی ذات سے نکلنے کا نام ہے اور حقیقت واصل خدا ہونے کا نام ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے خطاب کا ویڈیو لنک

http://replay.minhaj.tv/videos/uncategorized/international-sufi-conference-dehli-20-03-2016-5754

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ تصوف تفرقے مٹا کر وحدت، نفرت مٹا کر محبت اور تکبر کو مٹا کر عجز و انکساری پیدا کر لینے کا نام ہے۔

صوفیاء خدا کے چنیدہ افراد ہوتے ہیں، جو تواضع و انکساری کا پیکر اور اخلاق انبیاء کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کا مشترکہ دشمن انتہاپسند اور دہشت گرد ہیں، ملکی وسائل جنگوں میں جھونکنے کی بجائے عوامی فلاح کیلئے خرچ کئے جائیں۔

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہندوپاک کے سکولوں اور درگاہوں میں صوفی ازم کو بطور نصاب پڑھایا جانا ضروری ہے۔

دہشت گرد تنظیموں کو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے وجود میں لایا جاتا ہے اور استعمال کرکے ٹشوپیپر کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش ہو یا طالبان یہ سب دہشت گرد، سفاک قاتل اور گمراہ فرقے ہیں جن کے مذہب میں انسانیت کا قتل جائز ہے۔

گنگاجمنی تہذیب امن کی تاریخ ہے، جس کے بانی صوفیائے اسلام ہیں۔ گنگاجمنی تہذیب نے مذاہب کے درمیان جاری جنگوں کو ختم کرکے بقائے باہمی اور رواداری کا درس دیا۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے خطاب کو لاکھوں لوگوں نے سنا اور کئی ٹی وی چینلز نے ان کے خطاب کو براہ راست دکھایا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے