کچھ عباس تابش کے بارے میں

جب کبھی میری طبیعت ناساز ہو،میں دوا کے علاوہ ادب کے مطالعے سے بھی اس کے مداواکی کوشش کرتا ہوں گزشتہ تین دن سے میری طبیعت میں خاصی گڑ بڑ ہے،چنانچہ ان دنوں دونوں ادویات سے اپنا علاج کر رہا ہوں۔

میرے دوست مجھے اپنی کتابیں تحفے میں دیتے رہتے ہیں، گزشتہ شام میرے دوست عامر رضوی میرے گھر تشریف لائے، وہ میرے لئے جو تحفہ لے کر آئے، وہ منٹو کے منتخب افسانوں کا انگریزی ترجمہ تھا جو انہوں نے پوری مہارت سے کیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے میری طنز و مزاح کی کتاب کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔ میں نے رضوی کے رخصت ہوتے ہی منٹو کے چند افسانے’’چکھے‘‘ جس سے طبیعت میں بہتری پیدا ہوئی۔ پھر کچھ کلاسیکی شاعری کی کتابیں میری طبیعت کی بہتری میں کام آئیں بلکہ بیٹھے بیٹھے کئی جہانوں کی سیر بھی کر لی۔

مگر آج یوں محسوس ہوا کہ شاعری کا دیوتا مجھ پر بہت مہربان ہو گیا ہے۔ جب عباس تابش میرے ’’معاصر‘‘ کے دفتر آئے۔ کیونکہ میں نے ان کے لئے چائے کا آرڈر دینے سے پہلے تازہ کلام کی فرمائش کی جو انہوں نے حیلے بہانے سے ٹالنے کی کوشش کی اور یہ شاعرکا حق ہوتا ہے مگر بالآخر سنانا اس کی مجبوری! میں نے ان سے چارغزلیں سنیں اور ان غزلوں کی لذت میں،میں آپ کو بھی کالم کے آخر میں شریک کروں گا۔

عباس تابش آج کے ان شعراء میں شامل ہیں کہ ہند سندھ میں کوئی عباس تابش کا نام لے تو کسی کو یہ نہیں پوچھنا پڑتا کہ کون عباس تابش؟میں عباس تابش کی شاعری سے تقریباً 25تیس برس پہلے روشناس ہوا تھا۔ جب میں نے نوائے وقت میں ادبی صفحے کا آغاز کیا اور پھر ہماری صحافت میں ادب کو جگہ دینا بلکہ ادبی صفحے کا اجراء کرنا ہر اخبار کی مجبوری بن گئی۔ عباس تابش کی شاعری کو آہستہ آہستہ پذیرائی ملی اور آج کا عباس تابش شاعری کا ایک ’’برینڈنیم‘‘ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کے ہم عصروں میں اچھے بلکہ بہت اچھے شاعروں کی کمی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ شاعر موجود ہیں ۔

ان میں ایک منصور آفاق بھی ہے جو اب ایک استاد کا درجہ رکھتا ہے ۔ گزشتہ دنوں اس کا دیوان شائع ہوا تھا جس نے خالص ادبی حلقوں میں ایک ہلچل سی مچا دی ہے وہ ایک سیاسی کالم بھی لکھتا ہے جو اس نے پی ٹی آئی کی پروموشن کے لئے وقف کر دیا اور نفع نقصان کی پرواہ نہیں کی۔ میں اس کے اس فعل کے حق میں ہوں ۔ کیونکہ خود میں نے اپنا کالم نواز شریف کی جماعت کے لئے وقف کئے رکھا اور میں سمجھتا ہوں میں نے اور منصور آفاق دونوں نے ٹھیک کیا۔ شاعری اور چیز ہے، کالم اور چیز ہے۔ اگر آپ کسی جماعت کو حق پر سمجھتے ہیں تو پھر نفع نقصان کی پروا کئے بغیر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں۔ لیکن اگر یہ آواز ضمیر کی نہیں ، کسی اور کی ہے ، تو پھر آپ ضمیر کے قیدی نہیں رہے۔ آپ دلال بن گئےہیں۔

میں اپنی ایک عادت کے ہاتھوں خود بہت تنگ ہوں اور وہ یہ کہ موضوع سے ہٹ جاتاہوں، اس وقت بھی یہی ہوا ہے۔ بہرحال میں عباس تابش کی بات کر رہا تھا۔ اس کے کام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کاغذپر شائع شدہ ہی اچھا لگتا ہے اور مشاعرے میں بھی سماں باندھ دیتا ہے ۔ اس وقت بہت سے شاعر ان میں سے کسی ایک میدان کے شیر ہیں جبکہ عباس تابش کی غزل کسی جریدے میں پڑھنے کو ملے تو ایک سرشاری کی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے اور اگر آپ اس مشاعرے میں ہیں ، تو وہاں کیفیت ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ مشاعرہ عباس تابش نہیں اس کا کلام لوٹتا ہے۔ ایک شعر خواہ مخواہ اس کی پہچان بن گیا ہے۔

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

اس میں قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ یہ انتہائی خوبصورت شعر ہے لیکن عباس تابش کے ہاں اس پائے کے ایک نہیں بہت سے شعر موجود ہیں۔ آپ اسے کبھی پڑھ کر یا سن کر تو دیکھیں۔

کہ میں نے کالم کے شروع میں کہا تھا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں، میں نے اپنے علاج کے لئے جو ادبی ٹوٹکے استعمال کئے ان سے افاقہ تو ہوا ، مگر طبیعت کی بحالی میں ابھی وقت لگے گا ۔ چنانچہ بہت کچھ جو ابھی میں کہنا چاہ رہا تھا وہ سب آئندہ پر چھوڑتے ہوئے ، آخر میں عباس تابش کی وہ غزلیں آپ کو سناتا ہوں جو مجھے ’’معاصر‘‘ کے دفتر میں ان سے سننے کو ملیں۔ اب مجھے اجازت دیں:

یہ دوپہر ہے اسے میکدے کی شام کریں

ملو کہ مل کے اداسی کو غرق جام کریں

میرے لئے وہی سقراط کا پیالہ کیوں

یہ پی چکا ہوں کوئی اور انتظام کریں

کلیجہ منہ کو بھی آئے تو یہ نہیں ممکن

تو ہم کلام نہ ہو اور ہم کلام کریں

انہیں کہو کہ میرا جرم صرف میرا ہے

انہیں کہو میرے سجدے کا احترام کریں

تو اپنا ہاتھ بڑھا میں بڑھائوں اپنا ہاتھ

دیا دیے سے جلانے کا اہتمام کریں

میں باقی عمر پرندوں میں رہنا چاہتا ہوں

میرے لئے کسی پنجرے کا انتظام کریں

یہاں تو کچھ نہیں غرفے کی جالیوں جیسا

ہمارے گھر میں کبوتر کہاں قیام کریں

«««««

بچوں کی طرح وقت بِتانے میں لگے ہیں

دیوار پہ ہم پھول بنانے میں لگے ہیں

دھونے سے بھی جاتی نہیں اس ہاتھ کی خوشبو

ہم ہاتھ چھڑا کر بھی چھڑانے میں لگے ہیں

لگتا ہے وہی دن ہی گزارے ہیں تیرے ساتھ

وہ دن جو تجھے اپنا بنانے میں لگے ہیں

لوری جو سنی تھی وہی بچوں کو سنا کر

ہم دیکھے ہوئے خواب دکھانے میں لگے ہیں

دیوار کے اس پار نہیں دیکھ رہےکیا؟

یہ لوگ جو دیوار گرانے میں لگے ہیں

ہر لقمہ تر خون میں تر ہے تو عجب کیا

ہم رزق نہیں ظلم کمانے میں لگے ہیں

افسوس کہ یہ شہر جنہیں پال رہا ہے

دیمک کی طرح شہر کو کھانے میں لگے ہیں

«««««

زخم سے پھول اُگے پھول سے خوشبو آئے

تجھ سے وہ بات کرے جس کو یہ جادو آئے

تیرے ہونٹوں پہ کسی اور کی باتیں آئیں

میری آنکھوں میں کسی اور کے آنسو آئیں

اتنا آسان نہیں ملاح کا بیٹا ہونا

نائو ڈوبی تو میرے ہاتھ میں چپو آئے

یہ جو ہر پھول کی مٹھی سے نکل جاتی ہے

عین ممکن ہے کبھی یہ میرے قابو آئے

اس نے مجھ میں گل امید کھِلا رکھا ہے

تاکہ مجھ سے نہ کسی اور کی خوشبو آئے

چاند چہرے مجھے اچھے تو بہت لگتے ہیں

عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے

«««««

تمہاری رائے میں جو معتبر زیادہ ہے

زیادہ کیوں نہیں لگتا اگر زیادہ ہے

نہ جانے کون سا درجہ ہے یہ فقیری کا

کہ مجھ میں آدمی کم اور شجر زیادہ ہے

تو مان لیجئے میں مستحق زیادہ ہوں

تمہارے پاس محبت اگر زیادہ ہے

اسے سمیٹنا آنکھوں کے بس کی بات نہیں

کہ تیرے شہر میں رزق نظر زیادہ ہے

تو اپنے بخت کا مجھ سے مقابلہ مت کر

کہ میرے پاس یہ کشکول بھر زیادہ ہے

کہ اس لئے بھی زیادہ قریب ہیں ہم تم

کہ اگلی بار نہ ملنے کا ڈر زیادہ ہے

میں اس لئے بھی وطن لوٹ کر نہیں جاتا

کہ مجھ غریب کی عزت ادھر زیادہ ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے