نہر والا پل

پاکستان میں ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے آثار موجود ہیں ۔موہنجو دوڑو، ہڑپہ اور کے پی میں اعلیٰ تہذیب و ثقافت کی علامت گندھارا کے آثار ۔حیرت کی بات ہے کہ یہ ہزاروں سال پرانی تہذیبیں اپنے اندر حکومت اور شہری سہولتوں کا ایک مکمل نظام رکھتی تھیں۔ان تہذیبوں کے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ شہروں کو باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے ذریعے ترتیب دیا جاتا تھا ۔صاف پانی کی گزرگاہیں، نکاسی آب کا ایک مربوط نظام ۔گویا ان علاقوں میں رہنے والے آج سے ہزاروں سال قبل ان سہولتوں سے مستفید ہو رہے تھے جن سے آج 21کیسویں صدی میں رہنے والے ہم لوگ محروم ہیں ۔پشاور میں آنکھ کھولی اور یہیں پلے بڑھے ۔یہاں ہر جگہ آبی نالے اور نہروں کا نظام دیکھا ۔جو کبھی مغلوں کے زمانے میں بنایا گیا تھا اور شہر کی نکاسی آب کی ضرورتوں کو پورا کرتا تھا ۔ پشاور کو کبھی پھولوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا ۔ یہاں پر خوبصورت باغات اور سبزہ تھا۔انگریزوں کے زمانے کی عمارات بھی دیکھیں تو بڑے بڑے چمن اور لہلہاتے درخت ابھی بھی ان کے جمالیاتی ذوق کی یاد دلاتے ہیں ۔شہر کے بیچوں بیچ نکاسی آب کے لیے نالے اور نہریں بنائی گئیں ۔میرے والد بتاتے ہیں کہ چار سدہ روڈ اور ورسک روڈ کے مضافاتی علاقوں میں بہنے والی ان نہروں کا پانی صاف اور نیل گوں ہوتا تھا۔ارد گرد کے باغات اور کھیتوں کو بھی یہی نہریں سیراب کرتی تھی ۔ اندرون شہر میں شاہی کٹھابہتا تھا ۔نکاسی آب کا ایک مربوط نظام تھا ۔جس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ۔اور پھر ہم نے ترقی کر لی ۔۔۔۔

پشاور بے ہنگم طریقے سے چاروں طرف پھیلتا گیا ۔افغان مہاجرین کی آمد نے مسئلہ اور بھی گھمبیر کر دیا ۔بغیر کسی شہری منصوبہ بندی کے چاروں اور کھمبیوں کی طرح کالونیاں بنتی چلی گئیں ۔ان کے سیورج کا پانی بھی ان نہروں میں شامل ہوتا چلا گیا ۔اور یہی پانی ارد گرد کے کھیتوں کو بھی سیراب کرتا رہا۔۔اس آلودہ پانی میں اگنے والی سبزیوں اور پھلوں پر تحقیق بھی کی گئی اور انہیں مضر صحت قرار دیا گیا ۔پولیتھین کے شاپنگ بیگ اور کوڑا کرکٹ مسلسل ان نہروں میں پھینکا جاتا ہے ۔اور اب تو رہی صحیح کسر ڈسپوزیبل باکسز اور برتنوں نے پوری کر دی ہے ۔جو ہلکے ہونے کی وجہ سے نہروں کی سطح پر تیرتے نظر آتے ہیں اور جہاں جہاں پر پل بنے ہیں وہاں ان کےتہہ در تہہ پہاڑ بنے نظر آتے ہیں ۔اب آئیں شہری حکومتوں کی طرف۔یونین کونسل ہوں یا بنیادی حکومتوں کے تحت لائے گئے ناظم ۔۔سب اختیارات کی کھینچا تانی میں مصروف ہیں اور پشاور شہر سسک رہا ہے ۔۔

پورے شہر میں ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں ۔ہر جگہ پر، گلیوں میں سڑکوں کے کنارے کچرے کے انبار پڑے نظر آتے ہیں ۔جنہیں کبھی کبھار ضلعی انتظامیہ کی گاڑیاں اٹھاتی نظر آتی ہیں ۔اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کچرے کے بھرے ہوئے شاپر نہر میں پھینکے جاتے ہیں ۔سال میں دو بار کروڑوں روپے لگا کر بھل صفائی کی جاتی ہے ۔اب اس کا بھی حال سن لیں ۔نہروں سے کچرا نکال کر سڑک کے کنارے پھینک دیا جاتا ہے ۔جس سے ارد گرد کے علاقے میں شدید بدبو پھیل جاتی ہے ۔یہ کچرہ کئی کئی دن تک اسی طرح سڑکوں کے کنارے پڑا رہتا ہے اور گاڑیوں کے ٹائروں کے ساتھ چپک کر گھروں کے اندر تک پہنچ جاتا ہے ۔ایک آدھ مہینے کے لیے یہ نہریں نسبتاً صاف ہو جاتی ہیں لیکن ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ بھرنا شروع ہو جاتی ہیں ۔اور تو اور ان نہروں کے کنارے پر جنگلے لگائے گئے ہیں ۔

جس پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔۔انہیں بھی منشیات کے عادی افراد دن دہاڑے اتار کر بیچتے نظر آتے ہیں ۔انسانی جان کے لیے بھی یہ انتہائی خطرناک ہیں ۔اور ہر سال درجنوں جانیں ان نہروں میں ڈوب کر ضائع ہو جاتی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ہزاروں سال پرانی تہذیبیں اگر منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے شہر ترتیب دے رہی تھیں تو ہمارا موجودہ ترقی یافتہ نظام کیوں کام نہیں کرتا ۔ترقی یافتہ ملکوں میں نکاسی آب کے لیے کبھی بھی اس طرح طرح کھلے نالے نہیں ہوتے ۔کیا بہتر نہیں ہوگا کہ ان نہروں میں نکاسی آب کے لیے بڑے بڑے پائپ بچھا دیے جائیں ۔۔۔

انہیں اوپر سے مکمل ڈھک دیا جائے ۔ٹھوس کچرے کوٹھکانے لگانے کے لیے مناسب انتظام کیا جائے۔سال ہا سال سے بھل صفائی اور جنگلوں کے نام پر جو اربوں روپے ان نہروں پر لگائے جا رہے ہیں کیا انہی کا مناسب استعمال کر کے ان نہروں کو اوپر سے ڈھکا نہیں جا سکتا ۔یہ کام کچھ ایسا مشکل تو نہیں ۔دور کیوں جاتے ہیں اپنے صوبہ پنجاب کے نظام سے ہی فائدہ اٹھا لیں ۔جہاں دور دراز دیہات تک میں بھی اب ماحول نسبتاً صاف ہو رہا ہے ۔ایک مربوط نظام کے تحت کچرے کو ٹھکانے لگایا جا رہا ہے ۔چلیں پنجاب کو تو چھوڑیں اپنے ہی شہر میں کنٹونمنٹ کے علاقے کو دیکھ لیں ۔آپ کو کہیں بھی کچرے کے ڈھیر پڑے نظر نہیں آئیں گے ۔خوبصورت فٹ پاتھ، ہموار سڑکیں جگہ جگہ فوارے لگے ہوئے سڑکوں کے بیچ سبزے کی بہار ۔۔۔آخر یہ بھی تو پشاور ہی کا حصہ ہے ۔ہماری شہری حکومتیں کنٹونمنٹ بورڈ سے ہی کیوں نہیں کچھ سیکھتیں ۔جب بھی کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے میں داخل ہو جائیں طبیعت باغ باغ ہو جاتی ہے ۔کاش ہمارے صاحب اقتدار کنٹینروں کی سیاست سے ہٹ کر اپنے صوبے کے دگرگوں حالات پر بھی توجہ دیں۔ادارے موجود ہیں لیکن نظام جامد ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ نظام کو بھی چلنا ہوگا ۔آپ ایک دفعہ کام شروع کریں تو دیکھیں گے کہ عوام آپ کا بھرپور ساتھ دے گی ۔ورنہ نور جہاں کے ساتھ مل کر ہم بھی یہی گاتے رہیں گے ۔
سانو نہر والے پل تے بلا کے
تےہورے ماہی کتھے رہ گیا ۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے