اظہار رائے کی آزادی کیا ہے اور پاک فوج پر تنقید کرنے کے منفی اثرات کیا ہیں؟

اپنی رائے یا تجزیے کا کسی بھی شخص اور ادارے کے خلاف برملا اظہار کرنا آزادی رائے کہلاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہر شہری کو فرداً فرداً خصوصاً صحافیوں کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے مگر فرقہ واریت پھیلانے، نفرت پھیلانے، بدنامی کرنے، غلط الزام تراشی اور اشتعال انگیزی جیسے رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جس میں توہین، بے بنیاد الزام تراشی اور افواہیں پھیلانا شامل ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی بھی شخص، ادارے یا سماجی گروہ کے خلاف غیر مہذب یا نقصان دہ زبان استعمال کی جائے۔ یہاں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم پاک فوج پر تنقید کرتے ہیں تو اس میں فرق کرنا ضروری ہے کہ تنقید تعمیری ہے یا صرف الزام تراشی اور توہین۔ اگر تنقید کا مقصد ادارے کی بہتری ہے تو یہ جائز ہے، لیکن اگر مقصد صرف بدنام کرنا ہو تو یہ منفی اثرات پیدا کرتا ہے۔

پاک فوج ملک کی دفاعی لائن ہے۔ اس کے خلاف بے بنیاد الزامات یا توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے عوام کا اعتماد کم ہوتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے علاوہ، دشمن عناصر اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ملک میں انتشار پھیلا سکتے ہیں۔

تنقید ہموار معاشرے کا ایک اہم جز ہے جو ہر پاکستانی شہری کا قانونی اور آئینی حق ہے، لیکن تنقید اور الزام تراشی میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اگر تنقید کا مقصد ادارے کی اصلاح ہے تو یہ قابل قبول ہے، لیکن اگر مقصد صرف بدنامی پھیلانا ہو تو یہ ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ پاک فوج ایک قومی ادارہ ہے جس کا تعلق ہر پاکستانی سے ہے، اس لیے اس پر تنقید کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

جب جوانوں کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں تو ان کا حوصلہ کم ہوتا ہے، جو جنگی صورتحال میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے تو ہمیں اپنے اداروں کا احترام کرنا ہوگا اور تعمیری تنقید کے ذریعے بہتری لانے کی کوش کرنی ہوگی۔

وطن کی فکر کرو نادان مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
نہ ڈر اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
وہ مرا کیا ہے جو محفوظ ہے ان کی داستانوں میں

پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے