گزشتہ شام راولپنڈی کے ایک بازار میں ایک سفید پوش بزرگ کو سبزی والے سے حسرت بھرے لہجے میں یہ کہتے سنا: ‘بیٹا، ان آلو پیاز کو عام ترازو میں نہ تول، انہیں سیدھا سنار کے کانٹے پر رکھ دے، اب یہ ہماری اوقات سے باہر ہو چکے ہیں!’ یہ سن کر مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں غریب کا بجٹ اور حکمرانوں کے دعوے، دونوں ہی ہوا میں اڑتے ہیں۔ مہنگائی کے اس ہوشربا طوفان میں عوام کی حالت اس بس کی سی ہو گئی ہے جس کے بریک فیل ہوں اور ڈرائیور مزے سے خراٹے لے رہا ہو۔
بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں نے پچھلی کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، لیکن مجال ہے جو اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے ہمارے وزراء کی پیشانی پر کوئی شکن آئے۔ میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری، جو کبھی اپوزیشن میں مہنگائی مارچ کرتے نہیں تھکتے تھے، آج اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے عوام کو ‘صبر اور قربانی’ کی تلقین کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان صاحب کے بیانات سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ ان کا سارا دردِ دل اور نظریاتی جنگ محض اقتدار کی راہداریوں تک ہی محدود ہے، غریب کی روٹی سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کے معاشی بحران کا سارا بوجھ اسی غریب کے کاندھوں پر ہے جس کی چیخیں اب آسمان چیر رہی ہیں۔ روزنامہ ڈان کے ایک حالیہ اداریے میں بجا طور پر نشان دہی کی گئی ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا نزلہ صرف تنخواہ دار اور نچلے طبقے پر گرا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور اللوں تللوں میں بال برابر بھی کمی نہیں آئی۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ جب ملک معاشی گرداب میں پھنستا ہے تو قربانی کا بکرا ہمیشہ عام شہری ہی بنتا ہے؟
اسی دوران، ‘ایک خاص ادارہ’ بھی اپنی تمام تر توجہات اور وسائل کے ساتھ ملک کے ہر کونے میں اپنی خاموش مگر فیصلہ کن موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے ریاست کی ساری مشینری محض طاقت کے کھیل اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے میں مصروف ہے، اور عوام کو صرف ٹیکس دینے اور قربانی کے وقت یاد کی جانے والی مخلوق سمجھ لیا گیا ہو۔
بقول شاعر:
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیرِ فلک کا شبِ مہتاب میں جلتا ہے
ہمارے ہاں مہنگائی کا رونا کوئی نیا نہیں، مگر جس بے دردی سے اب متوسط طبقے کا کچومر نکالا جا رہا ہے، وہ ایک خوفناک معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ حمید میر نے اپنے ایک کالم میں درست نشاندہی کی تھی کہ ہماری اشرافیہ کی پالیسیاں ہمیشہ اپنے طبقے کو بچانے اور غریب کو دبانے کے گرد گھومتی ہیں۔ برصغیر کی ثقافت میں ہمیشہ یہ سکھایا گیا کہ حکمران عوام کے محافظ ہوتے ہیں اور خلیفہ وقت کتے کی بھوک کا بھی جوابدہ ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ رشتہ محض شکاری اور شکار کا بن چکا ہے۔
مرزا غالب کو شاید آج کے حالات کا ہی ادراک تھا، بس تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یوں سمجھیے کہ ہم آئی ایم ایف کے قرض کی مے پی کر معاشی بحالی کی اُڑان بھرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں غریب کی ہانڈی میں اُبالنے کے لیے پانی کے سوا کچھ نہیں۔ خدا اس قوم پر رحم کرے جس کے پاس نہ سنار کے کانٹے پر تولنے کو آلو بچے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسی آواز جو اس منافقت کا گریبان چاک کر سکے۔