تعلیم غریب کا دردِ سر، اور کیمبرج والے پیدائشی افسر!

کل شام میں اپنے ٹیوشن والے بچوں کو پڑھا رہی تھی کہ ایک آٹھویں کلاس کے طالب علم نے کتاب بند کر کے بڑی معصومیت سے پوچھا: ‘مس علیشبہ! میرے ابو کہتے ہیں کہ اس ملک میں پڑھ لکھ کر بھی ڈگری یافتہ بے روزگار ہی بننا ہے، تو پھر ہم یہ رٹے لگا کر اپنا بچپن کیوں خراب کر رہے ہیں؟’ اس معصومانہ سوال نے مجھے لاجواب کر دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ برصغیر میں سرسید احمد خان نے تعلیم کی جو شمع شعور بیدار کرنے کے لیے جلائی تھی، ہماری اشرافیہ نے اسے محض کلرک پیدا کرنے والی فیکٹری اور طبقاتی تفریق کا ایک ظالمانہ ہتھیار بنا دیا ہے۔ آج غریب کا بچہ بھاری بستے کے بوجھ تلے دب کر بھی صرف مایوسی کی ڈگری حاصل کر رہا ہے، جبکہ اشرافیہ کے بچے کیمبرج اور آکسفورڈ سے پڑھ کر سیدھے ہم پر حکمرانی کے موروثی تخت پر براجمان ہو جاتے ہیں۔

روزنامہ ڈان کی ایک حالیہ چشم کشا رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، جو کہ ہماری ریاست اور حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شہباز شریف صاحب اور مریم نواز پنجاب میں لیپ ٹاپ بانٹنے اور تعلیمی انقلاب کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، مگر دیہاتوں میں سرکاری سکولوں کی ٹپکتی چھتیں اور غائب اساتذہ ان دعوؤں کا منہ چڑا رہے ہیں۔

دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری سندھ میں ترقی کے گیت گاتے ہیں، لیکن وہاں کے کئی سرکاری سکولوں میں طلباء کے بجائے آج بھی وڈیروں کی بھینسیں بندھی ہیں۔ مذہبی قیادت کا حال بھی کچھ مختلف نہیں؛ مولانا فضل الرحمان صاحب کے مدارس میں غریب کے بچے کو دو وقت کی روٹی تو مل جاتی ہے، مگر انہیں جدید تعلیم، سائنسی شعور اور دنیاوی ترقی سے دانستہ دور رکھا جاتا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والوں کی کھیپ تیار رہے۔ ان سب حالات میں، ریاست کا اصل دھیان کدھر ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ‘ایک خاص ادارہ’ اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل ملکی سیاست کی بساط کو اپنے زاویے سے سنبھالنے اور من پسند نتائج حاصل کرنے پر صرف کر رہا ہے، جبکہ قوم کے معمار جہالت اور بے روزگاری کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔

حمید میر نے اپنے کالم ‘کلام کمان’ میں بالکل درست لکھا تھا کہ جو ریاستیں اپنے بچوں کے ہاتھ سے قلم چھین لیتی ہیں، وہاں پھر اسلحہ اور مافیاز راج کرتے ہیں۔ تعلیم صرف سرکاری نوکری کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ شعور ہے جو انسان کو غلامی اور جانور پن سے ممتاز کرتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں تعلیم کو شعور کے بجائے محض ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے ہماری اسی کھوکھلی اور استحصالی تعلیمی صورتحال پر کیا خوب اور کاٹ دار طنز کیا تھا، جو آج کے حکمرانوں پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

جب تک تعلیم کو غریب کی پہنچ میں لا کر اس کا مقصد نوکری کے بجائے سوچنے سمجھنے والے انسان پیدا کرنا نہیں بنایا جاتا، ہم یونہی بے مقصد رٹے لگاتے رہیں گے اور ہماری ان ڈگریوں کی وقعت ردی کے کاغذ سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے