حالات اتنی آسانی سے کہاں بدلنے والے؟ ضمیر تو ہر فرد کا بکا ہوا ہے۔ محض حکومت پر تنقید کرنے سے نظام نہیں چلتا۔ اس کھوکھلے نظام کے لیے خود اس میدان میں کود پڑنا ہوگا! اسی کا حصہ بن کر اسی کو شکست سے دوچار کرنا ہے۔
ہمارے ملک میں جہاں تک نظر پڑے، ہر فرد اپنی بساط کے مطابق عوام کو لوٹ رہا ہے۔ دراصل یہ ایک دوسرے کا خون پینے جیسا ہے۔ بے حس قوم کو کیا پتا کہ اسی لوٹ مار کے دوڑ میں آگے ایک دوسرے کے ہی گلے کٹنے ہیں۔ ہر بندہ ممکن حد تک دوسرے کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی جیب سے پیسے کیسے نکالے۔
مانا کہ سیاستدان کرپٹ ہیں، ان کے بس میں وہی کرپشن ہے جو دن رات ہمارے ٹیکسوں سے نکالتے ہیں اور جو ہماری ذمہ داری ہے اس میں ہم کرپشن کرتے ہیں۔ یعنی کرپشن صرف پیسا چرانا نہیں، بلکہ کام چوری اور صدق دل سے کام نہ کرنا بھی کرپشن ہے۔ ایک معمولی پولیس والا لاکھوں کا مالک ہوتا ہے۔ لاکھ سے کم آمدن ہر مہینے ملتی ہے جس میں گھر بھی چلانا ہوتا ہے، تو اتنے پیسے اور جائیداد آتے کہاں سے ہیں؟
یہ صرف ایک پولیس والے کی بات نہیں، یہ ہر سرکاری بندے کا چہرہ ہے۔ ان کے خلاف آواز اٹھانا بھی موت کو دعوت دینا ہے، کیونکہ ان کا رابطہ کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے لازمی ہوتا ہے۔ اور وہی آ کر اس گند کو باہر نکال لیتے ہیں اور یوں نظام بدتر سے بدتر ہوتا جا رہتا
ہے۔
اس لیے لازم ہے کہ یہ معاملہ خود سے شروع ہونا چاہیے۔ ترقی اسی راز میں پوشیدہ ہے۔ جب لوگ خود سے آغاز کریں گے تو باقی بھی انہیں دیکھ کر اسی روش کو اپنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک نہ پڑھنے والے بندے کو ایک مہینے تک پانچ پڑھنے والے بندوں کے ساتھ رکھا جائے — یقین مانیں اس میں لازمی تبدیلی آئے گی۔
ہاں، ان سب کاموں کے بعد تب جا کر ہم حکمرانوں پر تنقید کریں۔ کہتے ہیں کہ جیسی قوم ویسے حکمران۔ اگر اب بھی سوئی ہوئی قوم ٹس سے مس نہ ہوئی تو ہمارا انجام بہت قریب ہے اور ہم ہمیشہ کے لیے ناکام ٹولے کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے ہیں۔