گرمی اور مہنگائی،غریب کہاں جائے؟

مئی کا مہینہ اپنی تمام تر تمازت کے ساتھ آن پہنچا ہے، لیکن اس بار پاکستانی عوام کو جس دہری آگ کا سامنا ہے، اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ ایک طرف قدرت کا جلال ہے تو دوسری طرف معاشی نظام کا زوال۔ ملک اس وقت دو شدید ترین لہروں کی زد میں ہے ایک شدید ترین ہیٹ ویو کی تپش اور دوسری ہوشربا مہنگائی کا طوفان۔ ان دونوں آفتوں نے مل کر عام آدمی، دیہاڑی دار مزدور اور سفید پوش طبقے کے لیے جینا محال کر دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے غریب عوام کے لیے زمین تانبا اور آسمان آگ برسانے والا بن چکا ہے، جہاں نہ سائے کا ٹھکانا ہے اور نہ دو وقت کی روٹی کا آسرا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ حالیہ الرٹ کے مطابق، ملک کا ایک بڑا حصہ مئی کے وسط سے آخر تک شدید ترین ہیٹ ویو کی گرفت میں ہے۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت 46°C سے 50°C کے ہندسے کو چھو رہا ہے۔ لودھراں، دادو، جیکب آباد اور سیی جیسے علاقے تندور بنے ہوئے ہیں، جبکہ لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی پارہ 43°C سے اوپر جا چکا ہے یہ صرف موسم کی سختی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ہے ہوا میں نمی کا بڑھتا ہوا تناسب حبس کی ایسی فضا پیدا کر رہا ہے جس میں سانس لینا بھی دوبھر ہے۔ ساحلی شہر کراچی میں ”فیلز لائیک“ یعنی محسوس ہونے والا درجہ حرارت انسانی برداشت کی حدود کو پار کر رہا ہے اس شدید گرمی میں سب سے زیادہ متاثر وہ مزدور، رکشہ ڈرائیور اور ریڑھی بان ہیں جنہیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے تپتی سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔ شدید دھوپ میں چند گھنٹے کام کرنے سے ہیٹ سٹروک اور ڈی ہائیڈریشن (پانی کی شدید کمی) کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر یہ صرف موسم کا جبر ہوتا تو شاید قوم صبر کر لیتی، لیکن المیہ یہ ہے کہ اس چلچلاتی دھوپ میں معاشی نظام کی بے حسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ مئی 2026 کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں افراطِ زر کی شرح 11% سے 12.2% تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پچھلے 23 مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔ یعنی وہ مہنگائی جو پہلے ہی عوام کا خون چوس رہی تھی، اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک روپ میں سامنے آئی ہے،مارکیٹ کا رخ کریں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ غریب کی بنیادی غذا یعنی آٹا، گندم اور آلو کی قیمتوں میں صرف ایک ماہ کے دوران ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ آٹے کا تھیلا خریدنا اب تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک بڑا معرکہ بن چکا ہے۔ دالیں، سبزیاں اور مصالحہ جات جو کبھی ”غریب کا کھانا“ کہلاتے تھے، اب عیاشی کی زمرے میں آ چکے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ انڈیکس میں تقریباً 6.9% کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر چھوٹی بڑی چیز پر مال برداری کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور اس کا سارا بوجھ بلاآخر اسی غریب صارف کی جیب پر ڈالا جا رہا ہے جو پہلے ہی خالی ہو چکی ہے۔

گرمی اور مہنگائی کا یہ تال میل اس وقت سب سے زیادہ خوفناک شکل اختیار کر لیتا ہے جب اس میں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے بھاری بل شامل ہو جاتے ہیں۔

ایک طرف تپتا ہوا دن ہے، جس میں پنکھا چلنا بند ہو جائے تو انسان تڑپ اٹھتا ہے، اور دوسری طرف بجلی کے ایسے بل ہیں جنہیں دیکھ کر غریب تو کیا، اچھے بھلے مڈل کلاس آدمی کو بھی ہارٹ اٹیک آ جائے۔حکومت کی طرف سے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر جو ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں، انہوں نے بجلی کو ایک نایاب شے بنا دیا ہے۔

دیہی علاقوں میں بارہ سے چودہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں بھی ٹرانسفارمرز کا جلنا اور غیراعلانی کٹوتی روز کا معمول ہے۔

ایک عام آدمی جس کی آمدنی پچیس سے تیس ہزار روپے ہے، وہ بیس ہزار روپے کا بجلی کا بل کیسے ادا کرے؟ اگر وہ بل دیتا ہے تو بچے بھوکے مرتے ہیں، اور اگر وہ بچوں کو کھانا کھلاتا ہے تو بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔ اس بے حسی کی انتہا اور کیا ہوگی کہ اس شدید گرمی میں بھی عوام کو بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھا جا رہا ہے اور اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے، اور اس تہوار پر بھی گرمی اور مہنگائی کے سائے گہرے نظر آ رہے ہیں مویشی منڈیوں میں شدید گرمی کے باعث جانوروں کی دیکھ بھال مشکل ہو چکی ہے اور پانی کی قلت کی وجہ سے بیوپاری پریشان ہیں دوسری طرف، چارے کی قیمتوں میں اضافے اور ٹرانسپورٹ کے بھاری اخراجات کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہو چکی ہیں۔ وہ سفید پوش طبقہ جو ہر سال مذہبی فریضہ شوق سے ادا کرتا تھا، اس بار مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر صرف دیکھ کر گزرنے پر مجبور ہے۔ معاشی دباؤ نے تہواروں کی خوشیوں کو بھی گہنا دیا ہے۔آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ ہماری سیاسی اشرافیہ ہمیشہ اقتدار کے کھیل میں مصروف رہتی ہے۔ جب غریب سڑکوں پر گرمی سے مر رہا ہوتا ہے اور بھوک سے بلک رہا ہوتا ہے، تو ایوانوں میں بیٹھے حکمران ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر پریس کانفرنسیں کر رہے ہوتے ہیں۔ عوام کو صرف ایک ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ الیکشن کے دنوں میں بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن اقتدار ملتے ہی عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

گرمی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہو سکتی ہے، لیکن مہنگائی اور بجلی کا نہ ہونا خالصتاً انسانی اور انتظامی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے فوری طور پر ہوش کے ناخن نہ لیے اور عوام کو اس دوہرے عذاب سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے، تو یہ معاشی اور ماحولیاتی بحران کسی بڑے سماجی دھماکے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے، اسے اس کڑے وقت سے نکلنے کی ہمت دے اور ہمارے حکمرانوں کو عوامی خدمت کا سچا شعور عطا کرے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے