ہر سال 22 مئی کو دنیا بھر میں عالمی حیاتی تنوع دن منایا جاتا ہے۔ اس سال 2026 میں اس دن کا موضوع بہت خاص ہے.”مقامی اقدام، بڑا اثر”۔ یہ نعرہ ہمیں ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ بڑی تبدیلیاں چھوٹی جگہوں سے شروع ہوتی ہیں۔ کثیر لوگوں کا خیال ہے کہ حیاتی تنوع کی حفاظت ایک ناممکن کام ہے جس میں صرف بین الاقوامی تنظیمیں یا بڑی حکومتیں کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن یہ سوچ بالکل غلط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں کیے جانے والے چھوٹے اقدامات، ہماری کمیونٹیز میں کی جانے والی چھوٹی تبدیلیاں، اور اپنے علاقے میں کیے جانے والے ایک سادہ سے کام سے بھی دنیا بھر میں بڑے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو ہمیں درختوں، پرندوں، جانوروں اور سمندری زندگی کی ایک خوبصورت دنیا نظر آتی ہے، لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ تنوع ہی ہے جو ہماری زندگی کو ممکن بناتا ہے؟
حیاتی تنوع صرف مختلف قسم کے جانداروں کا ایک سادہ ریکارڈ نہیں۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور حساس نظام ہے جہاں ہر چیز آپس میں جڑی ہوئی ہے اور ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ ایک درخت سے شروع کریں تو مٹی میں موجود ایک سوکشم جاندار سے لے کر پانی میں رہنے والی مچھلیوں تک، ہوا میں اڑنے والے پرندوں سے لے کر ہزاروں قسم کے کیڑے اور مکوڑے یہ سب بیک وقت ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔
جب ہم سانس لیتے ہیں تو یہ سانس ہزاروں پودوں کی محنت ہے۔ جب ہم کھاتے ہیں تو یہ کھانا مٹی میں رہنے والے جرثوموں کی خدمات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جب ہم پانی پیتے ہیں تو یہ پانی پُرانے جنگلات کی حفاظت کے بغیر صاف نہیں رہ سکتا۔ موجودہ وقت میں ہماری دنیا میں تقریباً 8.7 ملین حیاتی اقسام موجود ہیں، لیکن انسان ان میں سے صرف 2 ملین کو معلوم ہے۔ باقی ایک خیالی دنیا میں بسی ہوئی ہے جہاں انسان کو ابھی بھی بہت کچھ دریافت کرنا باقی ہے۔
پچھلے چند دہائیوں میں حیاتی تنوع میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جو بہت تشویش ناک ہے۔ سالانہ 10 ملین ہیکٹر جنگل ختم ہو رہے ہیں، جو شمالی امریکہ کے برابر علاقہ ہے۔ جنگلوں کی بے دریغ کٹائی، آبی وسائل کی خرابی، اور آب و ہوا میں تبدیلی یہ تمام عوامل مل کر حیاتی تنوع کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ سمندری زندگی میں تو صورتحال اور بھی خطرناک ہے۔ 1970 سے اب تک پہلی آبی حیات میں 68 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔ ہزاروں پرجاتیاں اپنے آباد اور رہائش کی جگہیں کھو رہی ہیں۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے پرندے اپنے روایتی طریقے سے منتقلی نہیں کر سکتے، سمندری مخلوقات اپنے درجہ حرارت میں سازگاری نہیں کر پا رہی ہیں۔ یہ اعدادوشمار محض ریاضی نہیں ہیں.یہ ہماری حیاتی ورثے کی خستہ حالی کی داستان ہیں۔
پاکستان کو قدرت نے سخاوت سے نوازا ہے۔ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے لے کر سندھ کے سیلابی علاقوں تک، بلوچستان کے ویرانے صحراؤں سے لے کر کاشمیر کی معطر وادیوں تک ہر علاقہ حیاتی تنوع کا ایک منفرد اور قیمتی خزانہ ہے۔ پاکستان میں 5,700 سے زیادہ پودوں کی اقسام موجود ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں اور یہ ہماری شناخت کا حصہ ہیں۔ 700 سے متجاوز پرندوں کی اقسام ہمارے آسمان میں اڑتی ہیں اور ہر موسم میں ہمارے دیکھنے والوں کو خوشی دیتی ہیں۔
400 سے زیادہ ممالیہ جانوروں کی اقسام ہماری سرزمین پر رہتی ہیں۔ یہ شمار خود میں ہماری حفاظت کی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن یہ قومی دولت خطرے میں ہے۔ شکار، غیر قانونی تجارت، اور رہائش گاہوں کی سنگین تبدیلی سے بہت سی اقسام لُپت ہونے کے قریب ہیں۔ ہمالیہ کے برفانی چیتے، سندھی ہرن، بلوچ رنگ بیرنگے پرندے، اور کراچی کے ساحلی علاقوں میں پائے جانے والے بہت سی مچھلیاں اب نہایت شدید خطرے میں ہیں۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر مسائل اتنے بڑے ہیں تو کیا ایک عام شخص یا ایک چھوٹا محلہ کیا کر سکتا ہے؟ یہی سوال ہے جو اس سال کے موضوع "مقامی اقدام، بڑا اثر” کا جواب دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی اور مؤثر تبدیلیاں مقامی سطح پر شروع ہوتی ہیں۔ جب آپ اپنے گھر میں ایک درخت لگاتے ہیں تو یہ صرف ایک درخت نہیں ہے.
یہ ہزاروں پرندوں کے لیے رہائش ہے، کھانے کی جگہ ہے، لوگوں کے لیے سائے اور سردی ہے۔ جب ایک محلے کے لوگ مل کر ایک پارک میں درختوں کا رقبہ بڑھاتے ہیں تو یہ پورے محلے کی آب و ہوا کو بہتر بناتا ہے، مٹی کو مضبوط بناتا ہے، اور اگلی نسل کو الہام دیتا ہے۔ جب شہر کے کچھ لوگ سمندری علاقوں میں کوڑا صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں تو یہ تمام سمندری زندگی کے لیے ایک امید کی شمع بن جاتا ہے۔
ہندوستان میں کنزرویشن رزرو بنانے کے ذریعے مقامی دیہاتیوں نے اپنے علاقے میں بندروں کی آبادی میں بہتری لائی۔ بنگلاڈیش میں مینگروو جنگلات کو محفوظ کرنے والے مقامی کمیونٹیز نے نہ صرف شدید طوفانوں سے اپنے علاقوں کو محفوظ رکھا بلکہ ہزاروں مچھلیوں کی اقسام کو بھی بچایا۔ یہ سب مقامی لوگوں کے اقدامات ہیں، بہت بڑے منصوبے نہیں، بہت مہنگے پروگرام نہیں۔ ہر ایک شخص، ہر ایک خاندان، ہر ایک محلہ، ہر ایک شہر اپنے حصے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگر آپ اپنے گھر میں چھت پر یا باغ میں پودے لگاتے ہیں تو یہ صرف سجاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی یہ صرف ایک شوقین کام ہے۔ یہ مقامی پرندوں، تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کے لیے ایک پناہ گاہ اور غذا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جب ہزاروں گھروں میں ایسے سبز کونے بن جائیں تو پورا محلہ حیاتی نظام میں بدل جاتا ہے۔
مقامی پودوں کو اگ بڑھانا بہت اہم ہے کیونکہ یہ پودے آپ کے علاقے کے جانوروں، کیڑوں اور پرندوں کے لیے بہترین غذا اور رہائش فراہم کرتے ہیں، جب کہ غیر مقامی یا بیرونی پودے مقامی حیات کو نقصان دے سکتے ہیں اور ماحول میں نیا خطرہ لا سکتے ہیں۔ اپنے پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنا ایک اور سادہ لیکن انتہائی اثر انگیز اقدام ہے۔ جب آپ پلاسٹک استعمال نہیں کرتے تو آپ سمندروں میں جانے والے کوڑے کو کم کر رہے ہوتے ہیں، جو سمندری زندگی کو نقصان دیتا ہے اور قدرتی حیات کو ختم کر رہا ہے۔
شعور بڑھانا بھی ایک بہت اہم اور طاقتور اقدام ہے۔ اپنے بچوں کو فطرت سے متعارف کرائیں، انہیں پارک میں لے جائیں، انہیں ایک درخت کے ساتھ وقت گزارنے دیں، انہیں بتائیں کہ حیاتی تنوع کیوں اہم ہے اور وہ کیوں ہماری حفاظت کریں۔ جب بچے فطرت سے منسلک ہوں تو وہ نہ صرف اس کی حفاظت کے خواہاں ہوتے ہیں بلکہ اپنی زندگی بھر اس کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں۔
اپنے علاقے کی حفاظتی جگہوں پر نظر رکھیں.پارکس، جنگلات، دلدلیں، ندیاں۔ اگر آپ کے علاقے میں ماحولیاتی حفاظت کے اقدامات ہو رہے ہیں تو انہیں سپورٹ کریں اور حصہ لیں۔ بہت سی NGOs اور کمیونٹی تنظیمیں حیاتی تنوع کی حفاظت کے منصوبوں میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں کی رضاکارانہ خدمت یا چھوٹی سے چھوٹی معاونت بھی انتہائی اہم ہے اور سمجھا جاتا ہے۔
اپنا کھانا ذمہ داری سے منتخب کریں کیونکہ یہ بھی حیاتی تنوع کے حفاظت سے جڑا ہے۔ جہاں ممکن ہو مقامی اور موسمی کھانے کو ترجیح دیں۔ یہ نہ صرف آپ کے علاقے کے کسانوں کو معاشی طور پر سپورٹ کرتا ہے بلکہ غیر ضروری ٹرانسپورٹ کو بھی کم کرتا ہے جو کہ کاربن کو بڑھاتا ہے اور آب و ہوا کو نقصان دیتا ہے۔ ان اشیاء سے بچیں جو غیر پائیدار ذرائع سے پیدا شدہ ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی چیز جنگل کاٹ کر بنائی جاتی ہے تو آپ کا ایک خریداری فیصلہ براہ راست اس نظام کو سپورٹ یا مخالفت کرتا ہے۔
حیاتی تنوع کی کہانی اب تک تنہا تاریکی کی کہانی نہیں رہی۔ دنیا بھر میں لوگ اپنی حیاتیات اور اپنے علاقوں کو دوبارہ تخلیق کر رہے ہیں۔ کوسٹاریکہ میں جنگلات دوبارہ بڑھ رہے ہیں، افریقہ میں بعض پرجاتیاں دوبارہ تعداد میں بڑھ رہی ہیں، یورپ میں بھیڑیے اور بھالو دوبارہ آ رہے ہیں۔ یہ سب کہاں سے شروع ہوا؟
ایک چھوٹی کمیونٹی سے، ایک محلے سے، ایک گھر سے، ایک فرد سے۔ عالمی حیاتی تنوع دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہم لاکھوں زندہ مخلوقات کے ساتھ ایک خوبصورت اور پیچیدہ نقش میں بندھے ہوئے ہیں اور ہر ایک کی حفاظت ہماری اپنی حفاظت کی بھی ہے۔ جب ہم ایک پھول کی حفاظت کرتے ہیں تو ہم کتنے ہی مکھیوں، پرندوں اور آخر میں انسانوں کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔
آئیے اس 22 مئی کو نہ صرف دن منائیں، بلکہ ایک عہد کریں۔ ایک عہد کہ ہم اپنی سبز زمین کی حفاظت کریں گے، اپنے علاقے میں ایک تبدیلی کریں گے، ایک درخت لگائیں گے یا کوئی دوسرا سادہ لیکن طاقتور اقدام کریں گے۔ آئیے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوبصورت، متنوع اور حیاتی سے بھرپور زمین چھوڑیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ حیاتی تنوع میں ہی ہماری اصل خوشخالی ہے، ہماری اصل ترقی ہے، اور ہماری حقیقی اور دائمی امید ہے۔ یاد رکھیں: ایک چھوٹا مقامی اقدام، ایک بڑا عالمی اثر لا سکتا ہے۔