کیا بی بی سی اپنی شناخت کھو رھا ھے ؟

ایک زمانہ تھا جب ہمارے گھروں میں خبریں صرف سنی نہیں جاتیں بلکہ ان پر یقین بھی کیا جاتا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ شام ڈھلے اباجی ریڈیو کے قریب بیٹھ جاتے اور بی بی سی کی نشریات توجہ سے سنتے تھے۔ ان کی طرح لاکھوں لوگ دنیا کے حالات، بین الاقوامی سیاست اور اہم واقعات کی مستند معلومات کے لیے اسی ادارے پر اعتماد کرتے تھے۔ بی بی سی محض ایک نشریاتی ادارہ نہیں تھا، بلکہ اعتماد اور سنجیدہ صحافت کا ایک استعارہ تھا۔
اس دور میں اگر دنیا کے کسی کونے میں جنگ چھڑ جاتی، کسی ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو جاتا، کسی عالمی رہنما کا تختہ الٹ دیا جاتا یا بین الاقوامی سفارت کاری میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی تو لوگ بی بی سی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ بی بی سی کی خبر کو خبر سمجھا جاتا تھا، رائے کو رائے اور تجزیے کو تجزیہ۔ اس کی پہچان تحقیق، توازن، وقار اور پیشہ ورانہ دیانت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مقامی ذرائع ابلاغ کی فراوانی کے باوجود لوگ بین الاقوامی حالات جاننے کے لیے بی بی سی پر بھروسہ کرتے تھے۔
لیکن وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بی بی سی اردو بھی ان تبدیلیوں سے محفوظ نہیں رہ سکا۔
آج جب میں سوشل میڈیا پر بی بی سی اردو کی اشاعتوں پر نظر ڈالتا ہوں تو بار بار یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ادارے کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ وہ ادارہ جو کبھی عالمی سیاست، سفارت کاری، معیشت، جنگ و امن، سائنسی پیش رفت اور بین الاقوامی تعلقات پر معیاری مواد پیش کرنے کے لیے جانا جاتا تھا، اب بڑی حد تک ایسے موضوعات کو نمایاں کرتا دکھائی دیتا ہے جو فوری توجہ حاصل کر سکیں، جذبات کو بھڑکا سکیں اور زیادہ سے زیادہ ویوز اور کلکس پیدا کر سکیں۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بی بی سی اردو کی متعدد اشاعتوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ پاکستانی قارئین کے لیے پیش کیے جانے والے مواد میں غیر معمولی حد تک ایسے موضوعات شامل ہیں جن کا تعلق غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، خواتین پر تشدد، جنسی جرائم، بچوں کے خلاف جرائم، خاندانی تنازعات، معاشرتی رویوں اور اخلاقی مسائل سے ہے۔
واضح رہے کہ یہ تمام موضوعات اپنی جگہ اہم ہیں اور ان پر رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ صحافت کا کام صرف حکومتوں، سیاست دانوں اور طاقت کے مراکز کی نگرانی کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے ان پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہے جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ خواتین پر تشدد، بچوں کے خلاف جرائم اور گھریلو زیادتی جیسے مسائل حقیقی ہیں اور ان پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی موضوعات ایک ایسے ادارے کی شناخت بن جائیں جسے کبھی عالمی معیار کی صحافت کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا؟
پاکستان اس وقت بے شمار سنجیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔ معیشت کی سمت کیا ہے؟ ملک کی خارجہ پالیسی کن مراحل سے گزر رہی ہے؟ خطے میں طاقت کا توازن کس طرف جا رہا ہے؟ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کی دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ تعلیم، صحت، پانی اور توانائی کے بحران کس نہج پر پہنچ چکے ہیں؟ دنیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی حالات پاکستان کو کس طرح متاثر کریں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات عوام کو درکار ہیں اور جن پر معیاری صحافت کی اشد ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان موضوعات کے مقابلے میں سنسنی خیز اور جذباتی نوعیت کی کہانیوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ بعض اوقات سرخیاں ایسی معلوم ہوتی ہیں جیسے ان کا مقصد قاری کو معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ اسے چونکا دینا ہو۔ خبر کے بجائے تجسس کو فروغ دیا جاتا ہے، اور تجزیے کے بجائے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی عام سوشل میڈیا پیج یا شام کے کسی سنسنی خیز اخبار سے تو منسوب کیا جا سکتا ہے، لیکن بی بی سی جیسے ادارے سے اس کی توقع نہیں کی جاتی۔
ممکن ہے اس تبدیلی کے پیچھے ڈیجیٹل میڈیا کی وہ دوڑ ہو جس میں ہر ادارہ ویوز، شیئرز، لائکس اور انگیجمنٹ کے اعداد و شمار کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ شاید ادارتی فیصلے بھی اب اسی پیمانے پر کیے جا رہے ہوں۔ لیکن اگر صحافت کا معیار محض ویوز کی خاطر قربان کر دیا جائے تو پھر معتبر صحافت اور بازاری صحافت کے درمیان فرق باقی نہیں رہتا۔
افسوس اس بات کا ہے کہ بی بی سی اردو سے توقعات ہمیشہ بلند رہی ہیں۔ لوگ اس سے وہی سنجیدگی، فکری گہرائی اور تحقیقی معیار چاہتے ہیں جس نے اسے دنیا بھر میں ممتاز بنایا تھا۔ جب یہی ادارہ بار بار ایسے موضوعات کو نمایاں کرتا دکھائی دے جو زیادہ تر جذباتی ردِعمل پیدا کرنے کے لیے موزوں ہوں، تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا ادارہ اپنی اصل شناخت سے دور ہوتا جا رہا ہے؟
کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ آیا بی بی سی اردو کی باگ ڈور اب ایسے مدیران کے ہاتھ میں ہے جو صحافت کو عوامی شعور بلند کرنے کے بجائے محض توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں؟ یا پھر وہ وسیع المطالعہ، باصلاحیت اور گہری فکری بصیرت رکھنے والے ایڈیٹرز اب اس ادارے کو دستیاب نہیں رہے جو کبھی اس کی پہچان ہوا کرتے تھے؟ یقیناً یہ ایک سخت سوال ہے، لیکن موجودہ رجحانات اسے جنم دینے پر مجبور کرتے ہیں۔
میری خواہش یہ نہیں کہ بی بی سی اردو معاشرتی مسائل پر رپورٹنگ بند کر دے۔ ہرگز نہیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ وہ توازن بحال کرے۔ وہ توازن جس نے اسے معتبر بنایا تھا۔ وہ توازن جس میں قتل اور جرم کی خبر بھی موجود ہو، مگر اس کے ساتھ سیاست، معیشت، سائنس، سفارت کاری، عالمی رجحانات اور فکری مباحث بھی نمایاں ہوں۔ وہ توازن جس میں قاری کی فوری دلچسپی کے ساتھ اس کی علمی اور فکری ضرورتوں کا بھی خیال رکھا جائے۔
اعتماد کسی ادارے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ اسے حاصل کرنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، مگر اسے کھونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ بی بی سی نے یہ اعتماد برسوں کی محنت سے حاصل کیا تھا۔ امید ہے کہ وہ اس سرمائے کی قدر کرے گا اور اپنی اس روایت کی طرف واپس لوٹے گا جس نے اسے دنیا بھر میں صحافت کے ایک معتبر، متوازن اور باوقار ادارے کے طور پر شناخت دی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے