رواں سال حکومت اخراجات کیسے پورے کرے گی، یہ ناممکن ہے، شاہد خاقان عباسی

عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ رواں سال حکومت اخراجات کیسے پورے کرے گی، یہ نا ممکن ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ملک میں رول آف لاء کی ضرورت ہے، آئین اور قانون کی پاسداری ہی ملک کا راستہ ہے، جو ملک اصلاحات کی بات نہ کرے وہ کیسے چلے گا؟ آپ اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پورے نہیں کر سکتے۔

اُنہوں نے کہا کہ جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوتا وہاں پر سرمایہ کاری بھی نہیں آتی، سیاسی استحکام کے ساتھ پالیسی کا استحکام بھی آتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ چین آج مستقل اصلاحات کی بات کرتا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت میں اصلاحات کی بات کوئی نہیں کرتا، بغیر اصلاحات کے ملکی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں،حکومت جو کماتی ہے، اس کا 20 فیصد اپنے اوپر خرچ کر رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے اخراجات ہر سال بڑھتے جا رہے ہیں، حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے نئے قرضے لے رہی ہے، ملک کا قرض ہر سال بڑھ رہا ہے، بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے، وسائل سے زیادہ خرچ کرنے پر اضافی ٹیکسز لگانا پڑتے ہیں، اضافی ٹیکسوں سے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ سود اور قرضوں کی ادائیگی آمدن سے زیادہ ہونے لگی ہے، سود کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس کچھ نہیں بچتا، گزشتہ 4 سال پاکستان کی معیشت کے لیے بد ترین رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کم اور حکومتی اخراجات کا حجم زیادہ ہو گیا، بجٹ میں اخراجات کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی، پینشن کا خرچہ حکومت چلانے کے اخراجات سے بڑھ گیا ہے، حکومت اپنی آمدن سے زائد خرچہ پینشن پر کر رہی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ وفاق مالی مشکلات کا شکار ہے، صوبوں کے پاس زیادہ وسائل موجود ہیں، بجٹ میں ریلیف کے دعوے حقیقت سے دور نظر آتے ہیں، معاشی بحران سے نکلنے کے لیے انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے، خرابیوں کو دور کیے بغیر بہتری ممکن نہیں، انتخابات اور اداروں کی بہتری کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوگی، ملک میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی، آئینی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری اہم ہے، معیشت کی بہتری کے لیے حکمرانی کے انداز کو بدلنا ہو گا، قرضوں کے چکر سے نکلنے کے لیے وسائل میں اضافہ ضروری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے