چین میں سیاحت اب صرف چھٹی گزارنے کا نام نہیں رہی بلکہ یہ لوگوں کی زندگی، کھپت اور ملکی معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ حکومت نے تعطیلات کے نظام، تیز رفتار ٹرینوں، شاہراہوں، ہوائی اڈوں، ہوٹلوں، آن لائن بکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اس انداز میں ترقی دی ہے کہ عام شہری کے لیے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرنا پہلے سے کہیں آسان ہو گیا ہے۔
اس کا ایک اہم ذریعہ چین کا تعطیلاتی نظام ہے۔ نئے سال، جشنِ بہار، چھنگ منگ، یومِ مزدور، ڈریگن بوٹ فیسٹیول اور قومی دن سمیت مختلف تعطیلات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ مختصر سرکاری چھٹیاں بعض اوقات ہفتہ وار تعطیلات کے ساتھ ملا کر نسبتاً طویل تعطیلات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 2025 میں جشنِ بہار کی تعطیلات آٹھ دن، یومِ مزدور کی پانچ دن اور قومی دن اور وسط خزاں کے تہوار کی مشترکہ تعطیلات آٹھ دن تھیں۔
یہ تعطیلات صرف آرام کے لیے نہیں بلکہ ایک طرح سے سیاحت اور اندرونی کھپت کو متحرک کرنے کی حکمتِ عملی بھی ہے۔ 2025 کی قومی دن اور وسط خزاں کی آٹھ روزہ تعطیلات میں چین بھر میں تقریباً 88 کروڑ اندرونِ ملک سیاحتی سفر ریکارڈ ہوئے، جبکہ سیاحوں نے تقریباً 809 ارب یوآن خرچ کیے۔ سرکاری تجزیے کے مطابق طویل تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیوں کے ساتھ رخصت ملانے کے طریقے نے لوگوں کو نسبتاً طویل سفر کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
جشنِ بہار بھی اس رجحان کی بڑی مثال ہے۔ 2025 میں آٹھ روزہ جشنِ بہار کی تعطیلات کے دوران 50 کروڑ 10 لاکھ اندرونِ ملک سیاحتی سفر ہوئے اور سیاحتی اخراجات نے 677 ارب یوآن سے تجاوز کیا ۔ اسی دوران پورے ملک میں مختلف ذرائع سے 2.3 ارب سے زیادہ مسافر وں نے مختلف انداز سے سفر کیا ۔
اگر پورے سال کو دیکھا جائے تو تصویر کہیں زیادہ بڑی نظر آتی ہے ۔ چین کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے مطابق 2025 میں چینی شہریوں نے 6.522 ارب اندرونِ ملک سیاحتی سفر کیے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 16.2 فیصد زیادہ تھے۔ ان سفروں پر مجموعی اخراجات 6.30 ٹریلین یوآن رہے، جن میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ تعداد اس لیے بھی اہم ہے کہ چین نے سیاحت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وسیع بنیادی ڈھانچہ کھڑا کیا ہے۔ تیز رفتار ریلوے اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین کا مجموعی فعال ریلوے نیٹ ورک 1 لاکھ 65 ہزار کلومیٹر تک پہنچا ، جس میں 50 ہزار کلومیٹر سے زیادہ تیز رفتار ریلوے کی مسافت شامل ہے۔ اسی سال چینی ریلوے سے تقریباً 4.59 ارب سفر ریکارڈ کیے گئے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے شہر میں رہنے والا شخص چند گھنٹوں میں دوسرے صوبے کے تاریخی، ثقافتی یا قدرتی مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ ریلوے کے ساتھ ایکسپریس ویز اور ہوائی سفر کا نیٹ ورک بھی وسیع ہوا ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین میں ایکسپریس ویز کی لمبائی تقریباً 1 لاکھ 99 ہزار کلومیٹر اور سول ٹرانسپورٹ ایئرپورٹس کی تعداد 270 ہو چکی تھی۔
سفر کو آسان بنانے میں آن لائن ٹیکنالوجی نے بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ٹرین اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ آن لائن بک کیے جا سکتے ہیں، ہوٹلوں کی ریزرویشن موبائل فون سے ہو جاتی ہے اور بہت سے سیاحتی مقامات پر ٹکٹ بھی پہلے سے آن لائن حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی چین نے ، آن لائن ٹریول پلیٹ فارمز اور مختلف ڈیجیٹل خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا ہے۔ادائیگی کا نظام بھی سیاحت کے تجربے کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ Alipay اور WeChat Pay جیسے پلیٹ فارمز پر غیر ملکی بینک کارڈز منسلک کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جبکہ بینک کارڈ اور نقد ادائیگی کے راستے بھی برقرار ہیں۔ 2025 کے جشنِ بہار کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی چین میں UnionPay اور NetsUnion کے ذریعے ہونے والی سرحد پار ادائیگیوں کے لین دین میں سالانہ بنیاد پر 124.54 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ان کی مجموعی مالیت میں 90.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاریخی اور ثقافتی مقامات کی دیکھ بھال بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ 2025 کے اختتام تک چین میں 16,994 اے گریڈ سیاحتی مقامات موجود تھے۔ ان مقامات پر پورے سال تقریباً 7.51 ارب سیاحتی دورے ہوئے اور 554.49 ارب یوآن کی سیاحتی آمدنی پیدا ہوئی ۔ اسی طرح 2025 کے اختتام تک ملک میں 70,354 ٹریول ایجنسیاں اور 7,586 اسٹار ریٹیڈ ہوٹل موجود تھے۔
اب اگر چین کے آؤٹ باؤنڈ ٹورازم کو دیکھا جائے تو چینی شہری صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سفر کر رہے ہیں۔ وزارتِ ثقافت و سیاحت کے مطابق 2025 میں چینی سرزمین کے رہائشیوں کے 14.836 کروڑ بیرونِ ملک سیاحتی سفر ریکارڈ ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 20.8 فیصد زیادہ تھے۔
اس کے ساتھ چین خود بھی دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے زیادہ پرکشش بنتا جا رہا ہے۔ 2025 میں چین میں 15.45 کروڑ اندرونِ ملک آمد کے سیاحتی دورے ریکارڈ ہوئے، جن میں 3.517 کروڑ غیر ملکی سیاح شامل تھے، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 30.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی سال ویزا فری پالیسی کے تحت غیر ملکیوں کی آمد 3.008 کروڑ رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 49.5 فیصد زیادہ تھی۔
یعنی چین نے ایک ایسا سیاحتی ماڈل تشکیل دیا ہے جس میں چھٹی لوگوں کو سفر کا وقت دیتی ہے، ریلوے اور سڑکیں انہیں منزل تک پہنچاتی ہیں، آن لائن نظام سفر کی منصوبہ بندی آسان بناتا ہے، ڈیجیٹل ادائیگیاں اخراجات کو سہل کرتی ہیں اور تاریخی و ثقافتی مقامات اس سفر کو مقصد فراہم کرتے ہیں۔
اس پورے نظام سے فائدہ صرف ہوٹل یا ٹکٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں کو نہیں ہوتا۔ ریسٹورنٹس، شاپنگ سینٹرز، مقامی ٹرانسپورٹ، تفریحی مقامات، دستکاری، دیہی سیاحت اور چھوٹے کاروبار بھی اس معاشی سرگرمی سے جڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے 2025 میں چین کے شہریوں کے سیاحتی اخراجات 6.3 ٹریلین یوآن تک پہنچنا محض سیاحت کا عدد نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاحت چین میں کھپت، روزگار، علاقائی ترقی اور خدماتی معیشت کو آگے بڑھانے والی ایک بڑی صنعت بن چکی ہے۔
چین کے تجربے سے ایک بات واضح ہوتی ہے: سیاحت صرف منزل بنانے سے نہیں بڑھتی، بلکہ لوگوں کے پاس سفر کا وقت، منزل تک پہنچنے کا آسان ذریعہ، رہائش، ادائیگی، معلومات اور محفوظ و منظم سفری ماحول بھی ہونا چاہیے۔ چین نے ان تمام عناصر کو ایک ہی نظام میں جوڑ کر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سیاحت دونوں کو نئی وسعت دی ہے۔