ڈگریوں کے ہجوم میں شاہین کہاں ہیں؟

ہماری نئی نسل کو صرف ڈگری نہیں کردار بھی چاہیے.ہم نے اپنی نئی نسل کو شاید صرف دو چیزوں تک محدود کر دیا ہے انہیں ایک ایسا بوجھ اٹھانے والا سمجھ لیا ہے جس نے صبح اسکول اور شام گھر آنا ہے،کتابوں کا بوجھ اٹھانا ہے، امتحان دینا ہے اور ڈگری حاصل کرنی ہے یا پھر انہیں ایک ایسے طوطے میں تبدیل کر دیا ہے جس کے سامنے کتاب رکھ دی جائے وہ الفاظ رٹ لیں، امتحان میں لکھیں اور ہم سمجھیں کہ تعلیم کا مقصد پورا ہوگیا۔

حالانکہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری، نمبرز اور تعلیمی سال مکمل کرنا نہیں بلکہ انسان کی کردار سازی کرنا ہے۔ بچے کو سوچنا، صحیح اور غلط میں فرق بتانا، دوسروں کا احترام کرنا، اختلاف برداشت کرنا، سچ بولنا اور ذمہ داری نبھانا بھی سکھانا ہے۔

بچے کی تربیت صرف والدین یا استاد کی ذمہ داری نہیں پورا معاشرہ اس میں کردار ادا کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ والدین اکثر بچے کی ڈگری کے پیچھے، استاد نصاب مکمل کرنے کے پیچھےاور معاشرہ اپنی پسند ناپسند، ذاتی مفادات، بغض، حسد اور احساسِ کمتری میں الجھا ہوا ہے۔ یوں وہ کردار جو نئی نسل کی تربیت میں ادا ہونا چاہیے کہیں غائب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ جو استاد واقعی بچوں پر محنت کرتا ہےانہیں وقت دیتا ہے، ان کی صلاحیتیں نکھارتا ہے اور اپنی ذمہ داری خلوص سے ادا کرتا ہے۔ہم اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کی ٹانگ کھینچنے اور کردار کشی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس کے اچھے کام کو یہ کہہ کر مشکوک بنا دیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کو اپنے پیچھے لگا رہا ہے یا باقی اساتذہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔یعنی ہم کسی کے مثبت عمل کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے اپنی پسند ناپسند اور منفی سوچ کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

اگر کسی سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو اسے نیچا دکھانا، اس کی قابلیت کو کم کرنا یا اس کے کردار پر سوال اٹھانا ہمیں آسان راستہ محسوس ہونے لگتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ خود دوسروں کی کردار کشی میں مصروف ہوں، وہ بچوں کی کردار سازی میں کیا کردار ادا کریں گے؟

بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتےوہ ہمارے رویے بھی دیکھتے ہیں۔ اگر وہ بڑوں کو حسد، ناانصافی، گروہ بندی اور کردار کشی کرتے دیکھیں گے تو پھر کتابوں میں لکھی ہوئی اخلاقیات ان کے کردار کا حصہ کیسے بنیں گی؟والدین کا کام صرف ڈگری دلانا نہیں، تربیت کرنا بھی ہے۔ استاد کا کام صرف نصاب مکمل کرنا نہیں، کردار بنانا بھی ہے اور معاشرے کا کام صرف خامیاں تلاش کرنا نہیں، اچھائی کو تسلیم اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔

ہم اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں ابنِ سینا، ابنِ الہیثم اور ایسی عظیم شخصیات کیوں پیدا نہیں ہوتیں؟ مگر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایسے بچے پیدا ہوں گے کہاں جب ہم ان کی شخصیت بنانے کے بجائے انہیں ابتدا ہی سے منفی سوچ، شارٹ کٹ اور دوسروں کا مقام گرا کر آگے بڑھنے کے طریقے سکھا رہے ہوں؟

عظیم شخصیات صرف کتابیں پڑھنے سے پیدا نہیں ہوتیں ان کے پیچھے بہتر تربیت، مثبت ماحول، سوال کرنے کی آزادی، محنت، کردار اور حوصلہ دینے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ہم بچے کی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے بجائے اسے دبائیں، اچھا کرنے پر حوصلہ دینے کے بجائے اس کی ٹانگ کھینچیں اور اسے یہ سکھائیں کہ کامیابی کا آسان راستہ دوسروں کو گرانا ہے تو پھر ہم عظیم ذہن رکھنے والی نسل کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟

ہمیں ایسی نسل نہیں چاہیے جو صرف امتحان پاس کر سکے بلکہ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو سوچ سکے، سوال کر سکے، تحقیق کر سکے، تخلیق کر سکے اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے مثال بن سکے۔

ڈگریوں کی دوڑ میں ہم نے شاہین گنوا دیے
کردار کی عظمت کے سبق بھلا دیے

کتابیں تو تھما دیں شعور دے نہ سکے
پرواز تو سکھائی اصول دے نہ سکے

جو خود ہی دوسروں کے پر کاٹتے رہے
وہ شاہینوں کو بلندی کے ہنر کیا دیتے؟

شاہین پیدا ہوتے ہیں کردار کے سائے میں
صرف ڈگریوں کے بوجھ سے پرواز نہیں ملتی۔

قومیں صرف ڈگری یافتہ افراد سے ترقی نہیں کرتیں۔ قومیں باکردار، باصلاحیت اور مثبت سوچ رکھنے والے انسانوں سے ترقی کرتی ہیں اور آخر میں سوال صرف اتنا ہےوہ قوم کیا خاک ترقی کرے گی جس کے شاہینوں کو ہم صرف ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ میں لگا دیں مگر انہیں کردار کی عظمت سکھانا بھول جائیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے