ہجوم کا فیصلہ یا عدالت کا انصاف؟

کسی بھی مہذب، جمہوری اور قانون پسند معاشرے کی بنیاد انصاف، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد سے استوار ہوتی ہے۔ جب کسی شخص پر جرم کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو اس کے جرم یا بے گناہی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہوتا ہے، نہ کہ مشتعل ہجوم نے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایسے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں محض الزامات، افواہوں یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر افراد کو ہجوم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

ہجومی تشدد دراصل انصاف نہیں ہے بلکہ قانون اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جب افراد یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو نہ صرف ایک فرد کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں بلکہ پورا نظامِ انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ آئین اور قانون ہر شہری کو منصفانہ سماعت، صفائی پیش کرنے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ حاصل کرنے کا حق دیتے ہیں۔ یہی اصول ایک مہذب معاشرے اور جنگل کے قانون میں فرق پیدا کرتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جذبات کے زیرِ اثر کیے گئے فیصلے اکثر ناانصافی کا باعث بنتے ہیں۔ ہجوم نہ تو شواہد کا جائزہ لیتا ہے، نہ قانونی تقاضوں کو سمجھتا ہے اور نہ ہی غیر جانبداری کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ اس کے برعکس عدالتیں قانون، شواہد اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں فیصلے صادر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف کی فراہمی کا اختیار صرف ریاستی اداروں اور عدالتوں کو دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، وہیں جھوٹی خبروں، افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو بھی تیز کر دیا ہے۔ بسا اوقات ایک غیر مصدقہ پوسٹ یا ویڈیو چند لمحوں میں ہزاروں افراد کو مشتعل کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ایسے اقدامات جنم لیتے ہیں جن پر بعد میں پورا معاشرہ شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض اوقات متاثرہ افراد بے گناہ ثابت ہوتے ہیں، مگر ان کی جان، عزت یا مستقبل کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔

ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔ ہجومی تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، فوری انصاف اور عوامی شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو بھی قانون پسندی، برداشت اور احترامِ انسانیت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ہم انصاف کا معیار عدالتوں کو مانتے ہیں یا مشتعل ہجوم کو۔ اگر ہر الزام کا فیصلہ سڑکوں اور بازاروں میں ہونے لگے تو پھر قانون، عدالت اور ریاست کی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے اور ہر فرد کو منصفانہ انصاف کا حق دیا جائے۔

آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہجوم کا فیصلہ وقتی ردعمل ہو سکتا ہے، مگر حقیقی انصاف صرف عدالت کا انصاف ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی ہی شہری آزادیوں، سماجی استحکام اور قومی ترقی کی ضامن ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے